آخری کال………

شہزاد سعید جیسے انسان صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں ایک انجمن تھا، ذات’ پات’ رنگ’ نسل’ مذہب کی تمیز تفریق کیے بغیر ہر کسی کے کام آنا، ہر کسی کا دکھ درد بٹانا اس کا خاصا تھا، وہ میرے آبائی علاقے عبداﷲ پور کا رہائشی اور میرا دیرینہ ”غمگسار” دوست تھا، ہم دونوں نے گورنمنٹ میونسپل ڈگری کالج جڑانوالہ روڈ سے گریجویشن کی، کالج میں ہماری پراکٹرز بلڈ ڈونر سوسائٹی کا وہ سرگرم ممبر تھا، جسمانی طور پر کمزور ہونے کے باوجود اس نے کبھی بھی خون کا عطیہ دینے سے گریز نہیں کیا، جٹ کا ذات اور ملت روڈ پر واقع 118 بھاٹاں کے نمبردار خاندان کا چشم وچراغ تھا، اس میں جاٹ، برادری جیسا رعب ودبدبہ’ غصہ وغیرہ بالکل نہیں تھا، وہ اپنی ذات میں انتہائی مٹا ہوا انسان تھا، ملنسار اس قدر تھا کہ بچے’ بڑے’ بوڑھے حتیٰ کہ خواتین بھی اسے اپنا دُکھ درد بتا دیا کرتی تھیں، وہ ہر کسی کے دُکھ کو اپنا دُکھ محسوس کرتا اور حتیٰ الوسع اس کی کوشش ہوتی کہ جو کوئی اُسے پکارتا، اس کی پکار پر لبیک کہتا اور ممکنہ حد تک اُس شخص کے کام آتا، کسی کو خون چاہیے ہوتا تو شہزاد سعید حاضر۔ کسی کو ہسپتال جانا ہوتا تو شہزاد سعید حاضر، کسی کو پیسے چاہیے ہوتے تو شہزاد سعید حاضر۔ شہزاد سعید کا شمار میرے اُن دوستوں میں تھا جس نے میرے والدین کی بھرپور خدمت اور تابعداری کی، میرے بڑے بھائی مرحوم ومغفور حاجی ملک مشتاق احمد عرصہ دراز تک عارضہ جگر میں مبتلا رہے، وہ ہر موقع پر ان کے ساتھ رہا، میرے والدین سے لیکر میرے بہن بھائیوں اور میرے بیٹے حافظ محمد شاویز کا وہ ہمدرد تھا اور ان سب کے ساتھ وہ بے حد مخلص تھا، زمانہ طالب علمی کے بعد بھی اس نے خون کا عطیہ دینے کا سلسلہ جاری رکھا، فروری 2026ء میں کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے سے کچھ عرصہ قبل اس نے ایک ضرورت مند انسان کو خون کا عطیہ دیا تھا، فروری میں اچانک اسے بخار ہوا جو آہستہ آہستہ کینسر کے موذی مرض کا روپ اختیار کر گیا، شہزاد سعید نے اپنے والدین’ اپنے بہن بھائیوں کی بہت زیادہ خدمت کی، اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ سعودی عرب چلا گیا وہاں پر ایک انتہائی اہم تعلیمی ادارے میں استاد کے فرائض سرانجام دیتا رہا، اس دوران اس کے والد محترم چوہدری محمد سعید جٹ صاحب کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ سعودیہ میں اپنا روزگار چھوڑ کر پاکستان آ گیا اور اپنے باپ کی خدمت کر کے فرمانبردار بیٹا ہونے کا حق ادا کر دیا۔ ایک بات طے ہے کہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت اور دعائیں کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ چوہدری شہزاد سعید جب عارضہ کینسر میں مبتلا ہوا تو اس کی بڑی بہن انگلینڈ میں اپنی نوکری’ بچوں’ گھر بار کی پرواہ کیے بغیر پاکستان پہنچیں اور اس کا اپنی نگرانی میں علاج معالجہ کیا کچھ عرصہ کے لیے وہ دوبارہ لندن گئیں اور وہ شہزاد سعید کی حالت بگڑنے پر دوبارہ پھر واپس پاکستان پہنچ گئیں اور اپنی نگرانی میں اپنے بھائی شہزاد سعید کا بہترین اور موثر علاج معالجہ کروایا۔ طبیعت سنبھلنے پر باجی دوبارہ لندن چلے گئیں، چند روز قبل شہزاد سعید کی طبیعت بگڑی تو ہزاروں میلوں کا سفر طے کر کے اپنے بھائی کے پاس پہنچی تو آخری دم تک اس کے پاس مجاہد ہسپتال میں موجود رہیں۔ میں چوہدری شہزاد سعید کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا، گاہے بگاہے اس کی تیمارداری کیلئے حاضر ہوتا رہا یا پھر فون پر اس کی طبیعت دریافت کرتا رہا۔ چلڈرن ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عامر نوید صاحب بھی میرے ساتھ ایک سے زائد مرتبہ شہزاد سعید کی تیمارداری اور حوصلہ بڑھانے کیلئے مجاہد ہسپتال جاتے رہے اور فون پر بھی شہزاد سعید کی خیریت دریافت کرتے رہے، میرا بیٹا حافظ محمد شاویز بھی اپنے انکل شہزاد سعید کی تیمارداری کرتا رہا اور خیر خیریت پوچھتا رہا، میری جب بھی شہزاد سعید سے ملاقات ہوتی یا فون پر بات ہوتی تو وہ حوصلہ کے ساتھ باتیں کرتا بلکہ میرا بھی حوصلہ بڑھاتا اور مجھے ڈھیروں دعائیں دیتا۔ دو روز قبل یعنی 5 اکتوبر بروز سوموار کو شہزاد سعید کے ساتھ بات ہوئی تو پہلی مرتبہ میں نے اسے افسردہ اور پریشان پایا، جس کے بعد میں بھی بہت زیادہ پریشان ہو گیا اور اﷲ کے حضور اس کی صحت وسلامتی کیلئے دعائیں مانگتا رہا مگر اﷲ کی رضا کے مطابق سوموار اور منگل کی درمیانی شب عین وقت تہجد شہزاد سعید اپنے اﷲ کے حضور پیش ہو گیا، بیشک ہم سب نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور اپنے رب کریم کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے، شہزاد سعید کے ساتھ 5اکتوبر بروز سوموار کے روز ہونیوالی بات چیت اس کی آخری کال ثابت ہوئی۔ اب وہ اپنے آبائی گائوں 118 ج ب بھاٹاں میں اپنے والد محترم کے پہلو میں آسودہ خاک ہو کر اپنی آخری آرامگاہ میں پہنچ چکا ہے، دعا ہے کہ رب کریم پیارے آقا کریمۖ کے صدقے اس کی آخرت کی منزلیں آسان کرے اور اس کی بوڑھی والدہ اور دو بہنوں کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں