لائیوسٹاک کی ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت (اداریہ)

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں زراعت کے ساتھ لائیوسٹاک کا شعبہ بھی قومی معیشت میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، مویشی پالنا دیہی معیشت کا اہم حصہ ہے اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے، دودھ’ گوشت’ چمڑے اور ان سے تیار ہونے والی مختلف مصنوعات سے ملکی ضروریات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ لائیوسٹاک کا شعبہ ملکی برآمدات بڑھانے میں وسیع استعداد رکھتا ہے، اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ اگر اس شعبے کی صلاحیتوں کو درست سمت میں بروئے کار لایا جائے تو پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کی جا سکتی ہیں، پاکستان میں گائے’ بھینس’ بھیڑ’ بکری اور دیگر مویشیوں کی پرورش ایک وسیع کاروباری سرگرمی ہے۔ دیہی علاقوں میں چھوٹے کسان اور مویشی پالنے والے افراد دودھ اور گوشت کی پیداوار کے ذریعے اپنے خاندانوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ تاہم اس شعبے کی اصل معاشی قوت صرف مقامی منڈی تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ جدید ٹیکنالوجی’ بہتر نسلوں’ معیاری خوراک’ موثر بیماریوں سے بچائو اور جدید پروسیسنگ کی سہولتوں کو فروغ دے کر پاکستان اپنی پیداوار کو عالمی معیار کے مطابق بنا سکتا ہے۔ اس طرح لائیوسٹاک محض دیہی روزگار کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ برآمدات میں اضافے کا ایک موثر وسیلہ بن سکتا ہے۔ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھی کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ زراعت پاکستان کی معیشت کو قلیل مدت میں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی استعداد رکھتی ہے۔ حکومت کسانوں کی ترقی اور کسان کارڈ کے ذریعے کسانوں کو براہ راست سبسڈی فراہم کرنے جیسے احسن اقدامات کر رہی ہے۔ لائیوسٹاک کا شعبہ ملکی برآمدات بڑھانے کی وسیع استعداد رکھتا ہے۔ پاکستانی حلال گوشت کی برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت صوبوں کو زراعت کی ترقی کیلئے ہر قسم کا تعاون فراہم کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسانوں کو کم لاگت پر کھاد’ معیاری بیج’ جدید مشینری اور پانی کے بہتر استعمال کے لیے آلات اور تکنیکی صلاحیتوں کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ کسانوں بالخصوص چھوٹے ودرمیانے درجے کے کسانوں کو انکی فصل کی صحیح قیمت فراہم کرنا ترجیح ہے۔ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گندم وافر مقدار میں موجود ہے۔ گندم کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ گندم کی بوائی سے پہلے اس کی صحیح قیمت کا تعین ضروری ہے تاکہ کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ ملے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاس لائیوسٹاک کے شعبے کو قومی ترقی کا اہم ستون بنانے کے لیے وسائل’ افرادی قوت اور پیداواری صلاحیت موجود ہے۔ تاہم ان امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے محض اعلانات کافی نہیں ہونگے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے بیان کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا حکومت’ صوبائی اداروں’ نجی شعبے’ تحقیقی مراکز اور مویشی پالنے والوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی’ بہتر معیار’ بیماریوں سے تحفظ’ موثر مارکیٹنگ اور برآمدی سہولتوں پر مسلسل توجہ دی جائے تو یہ شعبہ روزگار میں اضافے’ دیہی خوش حالی اور زرمبادلہ کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ لائیوسٹاک کو روایتی سرگرمی کے بجائے ایک جدید’ منظم اور برآمدات پر مبنی صنعت کی شکل دی جائے اس مقصد کے حصول سے نہ صرف پاکستان کی عالمی منڈیوں میں مسابقتی صلاحیت بڑھے گی بلکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور دیہی معیشت میں استحکام بھی ممکن ہو گا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر لائیوسٹاک کا شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی اور برآمدات کے فروغ میں اپنی حقیقی استعداد کے مطابق کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں