فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی منظور ی وفاق اور صوبے کے درمیان اختلافا ت بڑھانے کا سبب بن رہی ہے، آئینی تقاضوں، جمہوری روایات اور عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرنے سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں،پاکستان فلاح پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین سید آفتاب عظیم بخار ی نے وفاقی حکو مت کی جانب سے صوبہ خیبرپختونخوامیں گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے، جس کے نتیجے میں وفاق اور صوبے کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی اختلافات میں مزید شدت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت جن سیاسی، معاشی اور امن و امان کے مسائل سے دوچار ہے، ان حالات میں ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جو قومی وحدت، جمہوری استحکام اور وفاقی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا ایک اہم صوبہ ہے، جہاں کے عوام نے ہمیشہ ملکی سلامتی، استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں نمایاں قربانیاں دی ہیں۔ ایسے صوبے میں سیاسی تنازعات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے یا گورنر راج جیسے غیر معمولی آئینی اقدامات کی طرف بڑھنے کے بجائے سیاسی بصیرت، تحمل، برداشت اور باہمی مذاکرات کو ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وفاق اور صوبے کے درمیان اختلافات کو افہام و تفہیم کے بجائے تصادم کی طرف لے جایا گیا تو اس کے منفی اثرات صرف ایک صوبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ملک کی سیاسی فضا اور قومی یکجہتی متاثر ہو سکتی ہے۔پاکستان کا آئین وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات، ذمہ داریوں اور تعلقات کا واضح نظام فراہم کرتا ہے۔ آئین کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ ہر حکومتی اقدام آئینی حدود، قانونی تقاضوں اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہو۔ گورنر راج جیسے غیر معمولی اقدام کے لیے آئین میں درج شرائط اور طریق کار کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔




