بندوں کے بندے۔۔۔۔۔رب کے بندے

وہ لوگ خوش قسمت ہیں جو قرآن و سنت پر عمل ، درود شریف کی کثرت اور خلق خدا کی خدمت کر کے دنیا و آخرت میںکامیابی حاصل کرتے ہیں، ان صفات کے باعث انسان کو مقام ولایت حاصل ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی محبت و معرفت سے سرفراز فرماتا ہے، اللہ کے ولی لوگوں کے کام آنے میں روحانی سکون محسوس کرتے ہیں، یہ لوگ بلند مقام پر فائز ہوتے ہیں اور اس دار فانی سے انتقال کر جانے کے بعد ان کے آستانے آباد رہتے ہیں، دنیا میں بے شمار ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جو وقتی طور پر بڑے اہم نظر آئے مگر بالآخر وہ بے یارو مددگار ہو گئے کیونکہ وہ بندوں کے بندے بنتے رہے اور جو کوئی رب کا بندہ بنا دائمی سرخروئی اس کا ہی مقدر بنی اور وہ امر ہو گیا۔اللہ کے ولی کے در پر ہر وقت خلق خدا کا ہجوم رہتا ہے، حضرت سیدنا عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش ، حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی المعروف سید غوث الاعظم، حضرت عبداللہ شاہ غازی ، حضرت سیدنا عثمان مروندی المعروف لال شہباز قلندر ، حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر،حضرت خواجہ معین الدین چشتی ،حضرت بابا نور شاہ ولی ، حضرت صوفی برکت علی لدھیانوی اور دیگر بے شمار اولیائے کرام نے شب و روز کوشاں رہ کر لوگوں کی دنیا و آخرت سنواری،حضرت بابا نور شاہ ولی رحمتہ اللہ علیہ کا مزار شریف فیصل آباد میں ہے۔ جو تقریباً 400سال پرانا ہے، جس دورمیں یہ پورا علاقہ گھنے جنگلات، جھاڑیوں اور ویرانوں پر مشتمل تھا اس وقت آپ نے یہاں قیام فرمایا اورعبادت و ریاضت میں مشغول رہے، سرجیمز لائل نے یہاں پر لائلپور شہر کی بنیاد بھی اس لیے رکھی کہ حضرت بابا نور شاہ ولی رحمتہ اللہ علیہ کا دربار شریف یہاں پکی ماڑی میں موجود تھا جہاں اس دور میں بھی عقیدت مندوں کا ہجوم نظر آتا تھا، اسی لیے یہاں پر نیا شہر لائلپور بسایا گیا۔ حضرت بابا نور شاہ ولی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ کس علاقہ سے پکی ماڑی تشریف لائے، کسی زمانے میںفیصل آباد کا نام ساندل بار بھی رہا ہے اور یہاں کے د یگر علاقوں کی نسبت پکی ماڑی کا علاقہ زیادہ سرسبز و شاداب تھا اور حضرت بابا نور شاہ ولی نے یہاں پر قیام فرمایا تو عقیدت مندوں کی بڑی تعداد ان سے فیض حاصل کرنے کیلئے آنے لگی اور اب بھی ان کے دربار پر ہر وقت میلے کا سماں نظر آتا ہے، صوفی برکت علی لدھیانوی نے بھی لوگوں کی بڑی تعداد کو فیوض و برکات سے سرفراز فرمایا اور ان کے دربار پر ہر وقت عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نظر آتی ہے ، اسی لیے کیا خوب کہا گیا ہے کہ
جنہاں عشق نمازاں پڑھیاں ، اوہ کدے نہیں مردے
کامل مرداں دے در تے تک لے، اج وی دیوے بلدے
حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کا شمار بھی صاحب کرامت اولیائے کرام میں ہوتا ہے، آپ کا مزار پر انوار کراچی میں سمندر کے کنارے واقع ہے، آپ سے منسوب ”سمندر کے راستہ بدلنے” کا واقعہ آپ کی کرامات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، آپ کے عقیدت مندوں کا کہنا ہے کہ جب بھی بحیرہ عرب سے کوئی شدید سمندری طوفان یا سمندر کا پانی شہر کی طرف بڑھنے لگتا ہے تو حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کی روحانی برکت اور آپ کے مزار اقدس کی موجودگی کی وجہ سے وہ طوفان یا ساحل سے ٹکرانے سے پہلے ہی اپنا رخ بدل لیتا ہے یا اس کی شدت بالکل ختم ہو جاتی ہے، اسی وجہ سے حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کو کراچی کا روحانی محافظ بھی کہا جاتا ہے، سمندر ان کے مزار کے احاطے اور ان کے آستانے کی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتااور اپنا راستہ بدلنے پر مجبور ہو جاتا ہے، حالیہ دہائیوں1999ء ،2010ئ،2014ء اور 2023ء کے طوفانوں سے بھی شہر قائد محفوظ رہا، یہ طوفان کراچی کی طرف آ رہے تھے لیکن آخری وقت میں سمندر ہی اپنا راستہ بدل گیا، بے شک آپ کا شمار اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں میں ہوتا ہے۔حضرت عبداللہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کا مزار کراچی میں سمندر کے ساحلی علاقہ میں واقع ہے، جہاں ارد گرد کا تمام پانی کھارا اور نمکین ہے، مزار کے قریبی جگہ پر میٹھے پانی کا ایک چشمہ جاری ہوا، جسے لوگ کرامت کے طور پر دیکھتے ہیں اور اس چشمہ کا پانی تبرک کے طور پر پیتے ہیں، آپ کے مزار شریف پر آنیوالے زائرین کا ماننا ہے کہ یہاں مانگی جانے والی دعائیں قبول ہوتی ہے اور ان کی برکت سے مختلف جسمانی و روحانی بیماریوں سے شفا ملتی ہے، بے شک! اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کو بڑی شان اور بلندرتبہ عطا ء فرمایا ہے اور جو کوئی ان کے دامن سے جڑ جائے دنیا و آخرت میں کامیابیاں و کامرانیاں اس کا مقدر بنتی ہیں،قرآن و حدیث میں ان کے مقام، شان اور صفات کو بیان کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، خبردار !بے شک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہو گا اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔وہ جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے، ان کیلئے زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی،بے شک ! وہ مر کر بھی نہیں مرتے ،اسی لیے بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ
وے بلھیا اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور
اولیاء اللہ کی دو بنیادی خصوصیات ہیں:ایمان اور تقویٰ ، ان دونوں صفات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت دونوں میں اطمینان قلب اور کامیابی کی بشارت دیتا ہے،اولیاء اللہ کو صرف دعوئوں یا ظاہری حلیے سے نہیں بلکہ ان کے کردار، اخلاص اور عمل سے پہچانا جاتا ہے،وہ دنیا کوعارضی مسافر خانہ سمجھتے ہیں اور مال و دولت کی بجائے آخرت کی تیاری کو ترجیح دیتے ہیں، وہ مخلوق خدا کیلئے سراپا رحمت اور ان کے خیرخواہ ہوتے ہیں، ان کے قول و فعل سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچتی، ولی اللہ کی سب سے بڑی کسوٹی یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت پر سختی سے کاربند ہوتا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اولیائے کرام کی زندگیوں کو اپنے لیے مشعل راہ بنائیں، اپنے کردار، اخلاص اور عمل پر مکمل توجہ دیں، رب کے نیک بندوں نے بھی ہمیں انہی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا درس دیا ہے، بے شک!بہترین کردار، اخلاص اوراچھا عمل قریب الہٰی حاصل کرنے کا ذریعہ اور معاشرہ کو جنت نظیر بنانے کا ذریعہ بنتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں