افواج پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف (اداریہ)

افواج کی پوری تاریخ قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ پاک فوج نے جو خدمات انجام دی ہیں وہ قومی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت’ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد اور قدرتی آفات کے دوران عوام کی مدد جیسے شعبوں میں پاک فوج کا کردار نمایاں رہا ہے۔ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کا یہ کہنا کہ پاک فوج کی قربانیوں پر کوئی شک نہیں’ قومی سطح پر اس حقیقت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ ملک کا دفاع اور سلامتی افواج پاکستان اور تمام پاکستانیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں امن واستحکام کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ملکی سرحدوں کی حفاظت’ علاقائی امن کے فروغ اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مضبوط دفاعی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ پاک فوج کے افسران اور جوان مشکل ترین حالات میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے سرمایہ ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے جس صبر’ حوصلے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی قومی احترام اور قدر دانی کے مستحق ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد میں سکیورٹی اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ امن وامان کا قیام’ شہریوں کی جان ومال کا تحفظ اور دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلسل محنت اور پیشہ وارانہ صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں ملک میں امن کے فروغ اور معمولات زندگی کی بحالی کے لیے اہم اقدامات ممکن ہوئے ہیں۔ اس جدوجہد میں پولیس’ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی قربانیوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ قومی سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں ہر ادارے اور شہری کا اپنا کردار ہے میاں نواز شریف کے بیان کو اس وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ قومی دفاع اور افواج پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کیا جانا چاہیے۔ ملک کی سلامتی’ خودمختاری اور استحکام کے معاملے میں قومی اتفاق رائے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سیاسی قیادت کی جانب سے قومی مفاد کو مقدم رکھنا قابل تحسین ہے۔ قومی معاملات پر سنجیدہ اور ذمہ دارانہ گفتگو سے عوام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور اداروں کے درمیان بہتر رابطے کو فروغ ملتا ہے۔ پاکستان کا مستقبل اتحاد’ استحکام اور مسلسل محنت سے وابستہ ہے۔ پاک فوج کی قربانیوں کا اعتراف’ سیاسی قیادت کا ذمہ دارانہ طرز عمل اور عوام کا قومی معاملات میں مثبت کردار ایک مضبوط پاکستان کی تعمیر میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں اور مشترکہ قومی مقاصد پر اتفاق وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی یکجہتی کے اس جذبے کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ سیاسی استحکام’ معاشی ترقی’ قانون کی بالادستی’ تعلیم کا فروغ اور عوامی مسائل کا حل ایسے اہداف ہیں جن کے حصول کے لیے تمام قومی قوتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ پاکستان کی کامیابی اسی میں ہے کہ پوری قوم اپنے اختلافات کو جمہوری انداز میں حل کرتے ہوئے وطن عزیز کی سلامتی’ خوشحالی اور روشن مستقبل کے لیے متحد ہو جائے۔ یہی شہداء کی قربانیوں کا احترام اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط پاکستان کی تعمیر کا بہترین راستہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں