فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) خاکروبوں کا صفائی ستھرائی کے بعد ”جگا ٹیکس” وصول کرنا عام ہے اور جو کوئی ان کی ہر ہفتے اس زمرے میں خدمت نہ کرے ان کے گھروں’ دفاتر اور پلازے سے کوڑا کرکٹ نہیں اٹھایا جاتا اور وہاں گندگی کے ڈھیر لگے نظر آتے ہیں، ستم بالائے ستم یہ کہ خاکروبوں کی ہر ہفتہ خدمت کرنیوالوں کو پنجاب حکومت کا عائد کردہ ”کوڑا ٹیکس” بھی دینا پڑے گا اور اس صورتحال نے لوگوں کو ”دوہری مشکل” میں مبتلا کر دیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں مریم نواز حکومت نے عوام پر کوڑا کرکٹ ٹیکس کا جو بوجھ ڈالا ہے وہ فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں بعض دکانداروں کے ماہانہ بجلی کے بلوں سے بھی زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل شہری ودیہی علاقوں میں گھروں’ دکانوں اور کمرشل پلازوں پر کوڑا ٹیکس کا نفاذ کیا گیا مگر دو’ تین ماہ بعد یہ سلسلہ رُک گیا’ اب پنجاب حکومت کے احکامات پر ستھرا پنجاب ایجنسی کا کوڑا ٹیکس ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے وصول کرنیکا پروگرام بنایا گیا ہے اور 6،6 ماہ کا کوڑا ٹیکس جمع کروانے کے بل بھجوا دیئے گئے ہیں، رہائشی مکانوں (پانچ مرلہ تک) فی مرلہ 100 روپے’ عام دکاندار کو 3ہزار روپے ماہانہ کوڑا ٹیکس لگایا گیا ہے اور ان دکانداروں کو 6ماہ کا کوڑا ٹیکس 18ہزار روپے جمع کروانے کے بل بھجوا دیئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اکثر دکانداروں کا ماہانہ بجلی بل 3ہزار روپے سے کم ہے مگر انہیں کوڑا ٹیکس ماہانہ 3ہزار روپے فکس کر دیا گیا ہے، گھروں پر بھی کوڑا ٹیکس عائد کیا جا چکا ہے مگر اس کے باوجود صفائی ستھرائی کی صورتحال انتہائی ناقص ہے۔ عوامی’ سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے گھروں’ دکانوں اور پلازوں پر عائد کوڑا ٹیکس فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔




