مٹی پائو…… آگے بڑھو

اونچا بولنے کا معاملہ ہمیشہ سے ہی زیرِ بحث رہا ہے، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بحث کے نتیجے میں اکثر اوقات اونچا بولنا پڑتا ہے۔ اونچا بولنے سے مخاطب پر نفسیاتی اثر پڑتا ہے۔ مخاطب مرعوب ہو جاتا ہے اور اس بات کا بھی امکان ہوتا ہے کہ اس کی بولتی بند ہو جائے۔ ویسے یہ سارے امکانات ہیں، لیکن اس بات کا بھی امکان ہے کہ مدمقابل بھی مذکورہ بالا سارے کام کر دکھائے، کیونکہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ ویسے بھی مثل مشہور ہے کہ سارے خربوزے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لینے کے دینے پڑ جائیں۔ لوگ پیچھے پڑ جائیں۔ لوگ تو لوگ ہیں، کتوں کے پیچھے پڑ جانے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ کتوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے فقیر بننا پڑتا ہے، اور فقر میں نہ ارتکازِ دولت ہوتا ہے اور نہ ہی ارتکابِ جرم کا شائبہ تک ہو سکتا ہے۔ دامن پر کسی قسم کے دھبے فقیری کا راستہ مسدود کر دیتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ فقر ہی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ بصورتِ دیگر اس ساری بات کو اونچا بول سمجھیں، اور اونچا بول بولنا انسان کی بھول ہے۔ آج نہیں تو کل ہر چیز پر مٹی پڑنی ہے، یعنی سب کچھ سپردِ خاک ہو جانا ہے۔عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ اگر مٹی ہی انجام ہے تو بقول چوہدری شجاعت حسین، چھوڑو، مٹی پائو! ماضی کے تلخ حقائق کا سامنا کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا، اور بعض کام تو خواہ مخواہ مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ اسی لیے ادراک کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ادراک کرنے کے لیے ماتھے کی آنکھیں کھلی رکھنا پڑتی ہیں اور استثنائی صورتِ حال میں دل کی آنکھیں بھی کھولنا پڑتی ہیں۔ دل کا معاملہ نازک ہے۔ کم بخت کہاں مانتا ہے! اس دل سے بات منوانے کے لیے ریاضت کی ضرورت ہے۔ ریاضت کے لیے سب سے پہلے آنکھوں پر قابو پانا پڑتا ہے، پھر دماغ کو نچوڑ کر خون پسینہ ایک کرنا پڑتا ہے۔ تب جا کر عزائم پختہ ہوتے ہیں، نظر خدا پر ہوتی ہے اور منزل قریب، بلکہ قریب تر ہو جاتی ہے۔ اس حالت میں نظر کا تر ہونا بھی شرط ہے۔کسی نہ کسی شرط پر تو کھیلنا پڑتا ہے۔ دنیا ویسے بھی ایک کھیل تماشا ہے، اور جو اسے بالکل ہی کھیل تماشا سمجھ بیٹھتے ہیں، انہیں دن میں تارے نظر آنے کا بھی امکان ہے۔ اس سارے منظرنامے میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ دانائی اور حکمت بھی کوئی چیز ہے، بلکہ تدبر تو بہت ہی اہم چیز ہے۔ قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے اور زبان سنبھال کر بات کرنا ہوگی، کیونکہ زبان سے نکلا لفظ اور کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آتے۔ جو چیز واپس نہ آئے، اس کی کمی کبھی پوری نہیں ہوتی۔ اس لیے کم کم بولنا چاہیے۔سیانے کہتے ہیں کہ بولنے سے پہلے تولنا چاہیے۔ ہمارے ہاں تو تولنے میں بھی ٹکا کر ڈنڈی ماری جاتی ہے، اور اگر اونچا بول بولا جائے تو پھر مت بھی ماری جاتی ہے۔ مت لینا اور مت دینا بھی ایک معاملہ ہے۔ مت کے پودے کو سوچ کے پانی سے سیراب کرتے رہنے کی ضرورت ہے، تاکہ بندہ اردگرد کے ماحول کو دیکھ کر بات کرے اور یوں سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ لاٹھی بچانا دانائی ہے، کیونکہ سانپ ایک نہیں ہوتا ؛ ہر آستین میں سانپ ہوتے ہیں۔ سانپو ں کے بھی اپنے موسم ہوتے ہیں۔ بعض سانپ تو محض دیکھ کر ہی رت پی جاتے ہیں۔ ہوشیار باش، بلکہ بار بار ہوشیار باش!تغیراتِ زمانہ کی بدولت زمانہ ساز بننے کی بھی ضرورت ہے۔ زمانہ بھی کوئی سادہ چیز نہیں؛ یہ بھی روز نئے نئے رنگ بدلتا ہے۔ گھڑی تولہ، گھڑی ماشہ!ضرور ی ہے کہ زمانے کا بھی نفسیاتی تجزیہ کیا جائے اور اس کے حساب سے اپنی رفتار کا تعین کیا جائے۔ کچھوے کی چال اور خرگوش کی رفتار کو مدنظر رکھ کر اگلا لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ جوں کی رفتار ہو یا برق رفتاری، دونوں انتہائیں ہیں۔ افراط و تفریط کے بجائے اعتدال سب سے بہتر ہے۔ کاش! یہ بات ہمارے ذہن نشین ہو جائے، پھر تو سب ہی کہیں گے: آفرین، آفرین! ہم بحیثیت قوم اکثر زیرِ بحث رہتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا ہم پر نظر رکھتی ہے۔ یہ صورتِ حال بڑی حساس ہے۔ اب ہم پر لازم ہے کہ ہم بھی اپنے آپ پر نظر رکھیں۔ اپنی کمی بیشی کا ڈھنڈورا پیٹنے کی قطعی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسا کرنا تو اپنا ہی اوہلہ اتارنے والی بات ہے۔ آئیڈیل صورتِ حال کہیں بھی نہیں ہوتی۔ انیس بیس کا فرق ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔ اگر بالفرض ہمارے آبا و اجداد سے کوئی غلطی ہو بھی گئی ہے تو اس کا ڈھنڈورا پیٹنے سے کیا فائدہ؟باشعور اولاد اپنے آبائو کا اوہلہ بھی رکھتی ہے اور معاملات کو بہتر بنا کر ماضی کے قرض بھی چکاتی ہے۔ اللہ تعالی سور بقرہ میں ارشاد فرماتے ہیں، جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ وہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی۔ اس نے جو کچھ کمایا، اس کے لیے تھا، اور تم جو کچھ کما گے، وہ تمہارے لیے ہوگا۔ہمارے ہاں یقینا ماضی کے تلخ حقائق موجود ہیں، لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حالات میں کیا کیا جا سکتا ہے۔ کیچڑ اچھالنے سے اپنے ہی کپڑے گندے ہوں گے۔ غالب امکان ہے کہ اس کی زد میں زید، بکر سب آئیں گے۔ حاصل یہ ہوگا کہ ہم سب ایک دوسرے سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ یوں نقصان ہی نقصان ہوگا، جبکہ ہمارے دشمن تو پہلے ہی ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ہم نے مل کر ان کا سارا مسئلہ ہی حل کر دیا تو غیر بغلیں بجائیں گے، اور ہمیں پتا نہیں آئندہ کی صورتِ حال میں کس طرح منہ چھپانا پڑے گا۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہم منہ چھپانے کی پوزیشن میں بھی نہ رہیں۔کیا آگے بند گلی ہے؟ یہ محض دعوتِ فکر ہے۔ ویسے بھی مایوسی گناہ ہے، اور ہم تو بلا خوف و خطر آگے بڑھنے والے پرعزم لوگ ہیں۔ ہماری ارضِ پاک کو اللہ دیاں رکھاں! دعوتِ فکر کا تقاضا ہے کہ ہم سب ابا تبا بولنے کے بجائے ایک ہی میز پر بیٹھ جائیں، کسی مصلحت کا شکار نہ ہوں اور ہماری ٹاپ پرائرٹی صرف اور صرف پاکستان ہو۔ ویسے بھی ہم انسان ہیں اور ہمیں اپنے انسان ہونے کا ثبوت دینا ہے۔ فی الحال اپنے ہی لوگوں کے خلاف ثبوت پیش کرنے کے بجائے ایک ہو جائیں اور نیک ہو جائیں۔ماضی کو بھلا کر گزرے کل کو مدنظر رکھتے ہوئے آج غور و فکر کریں اور اس کے مطابق تدبیر کریں، تاکہ ہمارا آنیوالا کل آج سے بالکل مختلف ہو۔ ہم ایک مختلف قوم کے طور پر دنیا میں جانے اور پہچانے جائیں، بلکہ جہاں بھی جائیں، لوگ ہمیں دیکھ کر اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی لانے پر مجبور ہو جائیں۔ملک، قوم اور ہمارے ادارے لازم و ملزوم ہیں۔ روا یت سے جدت تک کا سفر ہمارا نصب العین ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں