فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ریلوے اسٹیشن چوک میں واقع میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کے مرکزی دروازے کے ساتھ گندگی کے ڈھیر’ چوک میں بنائی جانے والی پبلک لائبریری کے بنچز’ وال آف فیصل آباد کیساتھ کھال کی سلیبیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار’ شہر کو خوبصورت بنانے کے دعویداروں کی اپنے دفتر کے باہر کی حالت ناگفتہ بہ نظر آنے لگی’ کمشنر فیصل آباد ڈویژن وایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن محترمہ مسرت جبیں’ چیف آفیسر سمیت میونسپل کارپوریشن کے اعلیٰ افسران نے چپ سادھ لی۔ تفصیل کے مطابق پنجاب کے دوسرے بڑے شہرفیصل آباد کے اسٹیشن چوک میں واقع ایم سی ایف کے مرکزی گیٹ کے باہر کی حالت ناگفتہ بہ ہو گئی’ شہر کو خوبصورت بنانے کی دعویدار میونسپل کارپوریشن کے اپنے دفتر اور گردونواح کو سنوارنے میں ہی ناکام ہو گئی۔ میونسپل کارپوریشن کے مرکزی گیٹ کے ساتھ بنائی جانے والی وال آف فیصل آباد کیساتھ کھال کی سلیبیں ٹوٹ گئی اور فٹ پاتھ پر ملبہ گرنے سے لوگوں کا گزرنا محال ہو گیا جبکہ کھال سے نکلنے والا پانی جمع رہنے سے سڑک کے ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔ جبکہ اسٹیشن چوک میں گرین بیلٹ پر بنائی جانے والی پبلک لائبریری کی الماریوں سے کتابیں غائب’ بنچز ٹوٹ گئے جس کو نشیئوں نے اپنا مسکن بنا رکھا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کے افسران شہر کو خوبصورت بنانے کی بجائے اپنے دفتر کے باہر کی حالت کو سنوارنے میں ناکام نظر آتے ہیں وہ شہر کی حالت کو کیسا سنواریں گے جو کہ ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے شہر کی تعمیر وترقی اور عوام کی خوشحالی کی سکیموں کے کروڑوں روپے ضائع ہو گئے۔ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب’ کمشنر وایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن محترمہ مسرت جبیں اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کے ساتھ ساتھ میونسپل کارپوریشن کے دفتر کے باہر کی حالت زار کو بہتر بنانے کے موثر اقدامات کئے جائیں۔




