اسرائیل کی درندگی،غزہ میں قبرستان ٹینکوں اور بلڈوزروں سے مسمار

غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی فوج نے انسانیت سوز بربریت کا ایک اور مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی غزہ میں واقع ترک قبرستان کو ٹینکوں اور بلڈوزروں سے مسمار کر دیا۔غزہ کی وزارت اوقاف کے مطابق خان یونس کے مغرب میں واقع علاقے المواسی میں اسرائیلی فورسز نے قبریں اکھاڑ کر لاشیں نکالیں، جسے وزارت نے ”مقدسات کی کھلی پامالی” اور ”مرنے والوں کے تقدس پر صریح حملہ” قرار دیا۔وزارت اوقاف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی دراندازی نہ صرف زندہ فلسطینیوں تک محدود رہی بلکہ اب مردوں کی قبریں بھی دشمنی کی زد میں آ چکی ہیں۔ ترک قبرستان کی مسماری کو وزارت نے انسانی وقار اور مذہبی اقدار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی بلڈوزر قبرستان کو روندتے رہے جب کہ اطراف میں قائم بے گھر فلسطینیوں کے کیمپ بھی مکمل طور پر منہدم کر دیے گئے۔وزارت اوقاف کے مطابق غزہ میں موجود 60میں سے کم از کم دو تہائی قبرستان یا تو مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں یا شدید نقصان پہنچا ہے۔بین الاقوامی قوانین کے مطابق قبرستانوں کا تقدس برقرار رکھنا لازم ہے، تاہم اسرائیلی اقدامات عالمی انسانی حقوق کے اصولوں اور جنگی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی سمجھے جا رہے ہیں۔دریں ثنائ۔مقبوضہ بیت المقدس(مانیٹرنگ ڈیسک) فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ غزہ بچوں اور بھوکے لوگوں کا قبرستان بن چکا ہے۔انروا چیف نے کہا کہ فلسطینیوں کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں، ایک طرف موت ہے تو دوسری جانب بھوک، ہمارے اصول اور اقدار دفن ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بے عملی مزید انتشار لائے گی، مئی سے اب تک تقریباً 800فلسطینی امداد کی تلاش میں مارے جا چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بھوک کا بحران غیر معمولی سطح پر پہنچ چکا، صورتحال مزید بدتر ہورہی ہے، غزہ میں ہر تین میں سے ایک شخص بغیر کچھ کھائے دن گزارتا ہے۔ادھر اسرائیل کے غزہ پر تازہ حملوں میں مزید 45فلسطینی شہید، مرنے والوں میں امداد کے منتظر 11فلسطینی بھی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں