باجوڑ (نامہ نگار) سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کو باجوڑ کے لوئی ماموند تحصیل میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ افغانستان کے صوبہ کنڑ سے پاکستانی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ فتن الخوارج سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کا ایک گروہ پاک افغان سرحد پر لوئی ماموند کی پہاڑی علاقوں کے ذریعے دراندازی کی کوشش کر رہا ہے، سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان کی کوشش ناکام بنائی اور تمام 8 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ کارروائی کے بعد سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ افغان علاقے سے فتن الخوارج کی دوبارہ دراندازی روکی جا سکے۔اگرچہ فوج کے شعب تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس کارروائی پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن مقامی رہائشیوں نے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔رہائشیوں کے مطابق جھڑپیں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں جن کے دوران ایک بچہ زخمی ہوا، زخمی بچے کی شناخت محمد خان ولد عبدالرف کے نام سے ہوئی ہے، جسے پہلے لرکلوزو ہسپتال اور بعد ازاں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال خار منتقل کر دیا گیا۔یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب محض ایک ہفتہ قبل، 2 جولائی کو خار تحصیل کے علاقے صادق آباد میں ایک سرکاری گاڑی پر بم حملہ کیا گیا تھا جس میں نوگئی کے اسسٹنٹ کمشنر فیصل اسماعیل اور تحصیلدار عبد الودود خان سمیت 5افراد جاں بحق اور 17 دیگر زخمی ہو گئے تھے، جن میں 4 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔




