امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے سیاسی’ عسکری اور معاشی بحرانوں کا شکار ہے اور ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کا براہ راست تصادم سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کا اظہار اس تناظر میں نہایت اہم ہے کیونکہ پاکستان ماضی میں بھی مشکل حالات میں مذاکرات’ مفاہمت اور سفارتی حل کی حمایت کرتا رہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن’ خودمختاری کے احترام کا خواہاں رہا ہے اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔ پاکستان نہ تو کسی فریق کے ساتھ غیر ضروری محاذ آرائی چاہتا ہے اور نہ ہی کسی ایسے تنازع کا حصہ بننے کا خواہاں ہے جس سے خطے میں مزید بے چینی پیدا ہو۔ یہی متوازن اور ذمہ دارانہ رویہ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر نمایاں کرتا ہے جو مختلف فریقوں کے درمیان رابطے اور بات چیت کا راستہ ہموار کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے اسلام آباد کی ثالثی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان پر بھروسہ کیا جاتا ہے اور ایسے ممالک کی طرف سے بھی بھروسہ کیا جاتا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں۔ پاکستان نے جون میں ایک معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی عارضی طور پر بند ہوئی اور اہم آبنائے ہرمز کے راستے کو دوبارہ کھولنے اور تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے مزید معاہدے کا ایک لائحہ عمل طے پایا۔ انتوینوگوتریس نے کہا کہ ہم صرف یہ خواہش کر سکتے ہیں کہ پاکستان کی کوششیں جاری رہیں اور وہ کامیاب ہوں گی اور بالآخر مشرق وسطیٰ میں امن دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام فریقوں کو ایک واضح اور زور دار پیغام دینا چاہتا ہوں کہ تنازع ختم کریں۔ سفارت کاری کی طرف لوٹیں، بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری نقل وحمل کے حقوق اور آزادی کو مکمل طور پر بحال کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں تک افغانوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے، یو این افغانوں کی باوقار واپسی کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان کی خواہش بھی یہی ہے کہ جنوبی ایشیائ’ مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا میں امن قائم ہو۔ پاکستان کے لیے خطے میں امن اس لیے بھی ضروری ہے کہ معاشی ترقی’ تجارت’ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع اسی وقت بڑھ سکتے ہیں جب خطے میں امن واستحکام ہو۔ جنگ اور کشیدگی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ اور ایران اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں اور عالمی برادری کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں کرے۔ دنیا کو آج جنگ نہیں بلکہ امن’ دھمکی نہیں بلکہ مذاکرات اور محاذ آرائی نہیں بلکہ مفاہمت کی ضرورت ہے۔ پاکستان اگر امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے میں معمولی پیش رفت بھی کر پاتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی ہو گی بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں یہی دانش مندی ہے کہ اختلافات کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جائے اور سفارت کاری کے ذریعے ایک ایسا راستہ تلاش کیا جائے جس پر چل کر خطے کو مستقل امن اور استحکام کی طرف لے جایا جا سکے۔




