لاہور (سپورٹس نیوز) پاکستان کے فاسٹ بولر حارث رئوف نے کہا ہے کہ موجودہ دور کی کرکٹ میں بڑے اسکور بننے کے باعث بولرز کے لیے چیلنجز بڑھ گئے ہیں، تاہم اچھی بولنگ کے ذریعے بڑے مجموعوں کا دفاع کیا جا سکتا ہے، پاکستان نے ابتدائی دو میچز میں بطور بولنگ یونٹ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور دونوں میچز میں کامیابی حاصل کی۔قذافی اسٹیڈیم لاہور میں او ڈی آئی ٹرائی سیریز 2026 کے سلسلے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حارث رئوف نے کہا کہ لاہور میں ہونے والا اگلا میچ بریسٹ کینسر سے آگاہی کے لیے اہم ہے ،پوری قوم کو اس مہم کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ اس حوالے سے شعور اجاگر کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دو میچز میں 300 رنز کے مجموعے کا کامیابی سے دفاع کیا، جو بولنگ یونٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، پہلے میچ میں فاسٹ بولرز نے مل کر نو وکٹیں حاصل کیں۔حارث رئوف نے کہاکہ آج کل ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بڑے اسکور بن رہے اور 400 سے زائد رنز کے اہداف بھی حاصل کیے جا رہے ہیں، اس لیے آئندہ ورلڈ کپ میں ٹیموں کو 350 سے زائد رنز بنانے اور ایسے بڑے اہداف کا تعاقب کرنے کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔لاہور کی پچ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میچ سے قبل وکٹ کی صورتحال کے بارے میں حتمی رائے نہیں دی جا سکتی تاہم پاکستانی بولرز کوشش کریں گے کہ گزشتہ دو میچز کی کارکردگی کو یہاں بھی برقرار رکھیں۔ریورس سوئنگ کے سوال پر حارث رئوف نے کہا کہ 34 اوورز کے بعد ایک گیند باقی رہ جانے سے بولرز کو فائدہ ہوتا ہے، خصوصا دن کے وقت ریورس سوئنگ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں تاہم رات کے میچز میں شبنم کی وجہ سے ریورس سوئنگ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مڈل اوورز میں وکٹیں حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے ۔




