واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ایوان نمائندگان نے ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے لیے تیسری مرتبہ جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور کرلی۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کانگریشنل بجٹ آفس نے جنگ کی لاگت کم از کم 38ارب ڈالر اور امریکی دفاعی میزائلوں کے ذخیرے کو دوبارہ مطلوبہ سطح پر لانے میں کم از کم 5سال لگنے کا تخمینہ پیش کیا ہے۔ ایوان نمائندگان میں قرارداد 204کے مقابلے میں 220ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اس بار چند مزید ریپبلکن ارکان نے بھی زیادہ تر ڈیموکریٹس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ تاہم اس نوعیت کی سابقہ قراردادوں کی طرح یہ بھی سینیٹ سے منظوری اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے بغیر قانون نہیں بن سکتی، جبکہ ٹرمپ کی جانب سے اسے ویٹو کیے جانے کا امکان ہے۔کانگریشنل بجٹ آفس کی رپورٹ کے مطابق ایران کیساتھ جنگ جاری رہنے کی صورت میں اس کی لاگت ہر ماہ تقریبا 3ارب ڈا لر مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف دفاعی کارروائیوں میں پیٹریاٹ، تھاڈ اور بحری انٹرسیپٹر میزائلوں کی بڑی تعداد استعمال ہوچکی ہے، جس کے باعث امریکی ذخائر اس حد تک کم ہوگئے ہیں کہ پیداوار بڑھانے کے باوجود انہیں دوبارہ بھرنے میں کم از کم 5 سال لگ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمی مستقبل میں تائیوان کے معاملے پر چین کے ساتھ ممکنہ تنازع میں خاص طور پر مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران کے حملوں سے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں پر سینکڑوں عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے، بالخصوص آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث، امریکی افراطِ زر بھی پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں نصف فیصد زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق 2027 کے آغاز تک جنگ مہنگائی کو متوقع سطح سے 0.5 فیصد پوائنٹ زیادہ رکھ سکتی ہے۔اس سے ایک روز قبل پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 30 جون تک امریکا نے صرف جنگی سازوسامان کی خریداری پر 22.3 ارب ڈالر خرچ کیے جبکہ مجموعی اخراجات 33.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ جنگ نے امریکی فوج کے اسٹریٹجک ذخائر میں کمی اور ہتھیاروں کی دوبارہ فراہمی کے لیے صنعتی صلاحیت میں رکاوٹوں کو نمایاں کردیا ہے۔ ادھر جون میں وائٹ ہاس نے اضافی طور پر 87.6 ارب ڈالر کی منظوری طلب کی تھی، جس میں 67.1 ارب ڈالر پینٹاگون کے لیے مختص تھے۔




