ایک انچ زمین نہیں دینگے، امریکہ سے طویل جنگ کیلئے تیار

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان کی طالبان حکومت نے بگرام ایئر بیس کو دوبارہ حاصل کرنیکی امریکی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ، اگر امریکا کو ہمارے اڈے واپس چاہئیں تو ہم اس سے اگلے20 سال مزید لڑنے کے لیے تیار ہیں، بیرونی فوج کی موجودگی بحال کرنے کی کسی بھی کوشش کی صورت میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ پیش رفت امریکی صدر کی جانب سے بگرام ایئربیس واپس نہ کرنے کی صورت میں افغانستان کو دی گئی سنگین نتائج کی دھمکی کے بعد سامنے آئی ہے۔اتوار کو افغان وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد نے میڈیا سے گفتگو میں اس اسٹریٹجک ایئربیس کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا جواب یہ ہے کہ اگر آپ واپس آنا اور اڈے لینا چاہتے ہیں تو ہم آپ کے خلاف اگلے 20 سال تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے نائب اول ملا تاجمیر جواد نے کہا کہ افغان حکومت موجودہ نظام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔افغان وزارت خارجہ کے سیاسی ڈائریکٹر ذاکر جلالی نے امریکی واپسی کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان کبھی بھی اپنی سرزمین پر غیر ملکی افواج کو قبول نہیں کرتے اور واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی مکالمے میں دوبارہ فوجی قبضے کا معاملہ خارج ہونا چاہیے۔ اتوار کو افغانستان کی وزارتِ دفاع کے چیف آف اسٹاف فصیح الدین فطرت نے مقامی میڈیا پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ ‘حال ہی میں کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے بگرام ایئربیس واپس لینے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، افغانستان کی سرزمین کا ایک انچ بھی کسی کے حوالے کرنے کا کوئی معاہدہ ممکن نہیں، ہمیں اس کی ضرورت نہیں’۔بعدازاں ایک سرکاری بیان میں افغان حکومت نے خبردار کیا کہ ‘افغانستان کی آزادی اور علاقائی سالمیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ہفتے کو ایئربیس واپس نہ کرنے پر افغانستان کو سزا دینے کی غیر واضح دھمکی دی، اس سے چند دن قبل انہوں نے برطانیہ کے سرکاری دورے کے دوران انہوں نے امریکا کی جانب سے اس ایئربیس کا کنٹرل دوبارہ حاصل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں