بارش کے دوران فیسکواور واساکی کارکردگی بدترین

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پری مون سون کی پہلی بارش نے ہی فیسکو اور واسا کی کارکردگی کا پول کھول دیا، شہر کے اکثر علاقوں میں بجلی کی بندش اور شاہراہوں’ گلی محلوں سمیت نشیبی علاقوں میں بارش کے پانی نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی، بجلی کی عدم بحالی پر حبس نے شہریوں کو گرمی سے نڈھال کر دیا، گرمی کے ستائے شہری فیسکو کے نااہل اور نکمے عملہ پر برس پڑے’ بارش میں فیسکو کی بدترین کارکردگی چیئرمین فیسکو عمر فاروق خان منظرنامے سے غائب ہو گئے۔ تفصیل کے مطابق فیصل آباد میں پری مون سون کی پہلی بارش کے دوران فیسکو کے درجنوں فیڈر ٹرپ کر گئے، جسکی وجہ سے شہر کے اکثر علاقوں کی بجلی 24گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی بحال نہ ہو سکی۔ فیسکو حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوسوں کے راستوں پر بجلی بند نہ ہو گی۔ لیکن گزشتہ شب بھی یکم محرم کے جلوسوں اور مجالس کے دوران بجلی بند رہی۔ متعدد علاقوں کی بجلی ابھی تک بحال نہ ہو سکی جسکی وجہ سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہو گیا۔ شہریوں کے گھروں میں پانی ختم ہونے سے شدید پریشانیوں کا سامنا۔ شہری حلقوں کا کہنا تھا کہ فیسکو بھاری بھر کم بل وصول کرنے کے باوجود بجلی کی تقسیم کے سسٹم کو اپ گریڈ نہ کر سکا اور معمولی بارش کے ساتھ ہی فیڈر ٹرپ کر جاتے ہیں۔ اور گرڈ اسٹیشن پر لگے فیڈر معمولی بارش بھی برداشت نہیں کر سکے اور فیسکو کے نااہل اور نکما عملہ 24گھنٹے سے زائد کا وقت گزرنے کے باوجود اکثر علاقوں کی بجلی بحال نہ کر سکا۔ صارفین کا کہنا ہے کہ بارش کے دوران فیسکو سب ڈویژن میں عملہ غائب ہو جاتا ہے اور کمپلینٹ سیل کا عملہ بھی صارفین کی شکایات سننا تک گوارا نہیں کرتا۔ فیسکو چیئرمین عمر فاروق خان کی فیسکو معاملات سے عدم دلچسپی بھی لمحہ فکریہ ہے جبکہ ان کے پیش رو ملک تحسین اعوان فیسکو کے معاملات میں گہری دلچسپی لیتے ہوئے صارفین کے مسائل حل کروانے میں گہری دلچسپی رکھتے تھے اور فیسکو کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے بجلی کی بندش کے دوران موقع پر بھی پہنچ کر صارفین کے مسائل حل کرواتے تھے۔ جبکہ محکمہ واسا کی طرف سے ابھی تک شہر کے اکثر علاقوں ڈی گرائونڈ’ عبداﷲ پور’ جھمرہ روڈ’ پیپلز کالونی نمبر2 فیض بٹالوی روڈ’ کشمیر پارک’ پہاڑی گرائونڈ’ قاسم پارک’ منڈی کوارٹر’ غلام محمد آباد’ گلستان کالونی کے گلی محلوں سمیت شہر کے نشیبی علاقوں میں ابھی تک بارشی پانی جمع ہے جسکی وجہ سے شہریوں کو گزرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور یکم محرم کے جلوسوں کے راستوں میں بھی پانی جمع ہونے سے ماتمی اعزاداروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ فیسکو’ واسا سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی ناقص کارکردگی پر فیصل آباد شہر لاوارثاں بن گیا۔ جبکہ سرکاری افسران سرکاری گاڑیوں پر گھومتے نظر آتے ہیں لیکن کام پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی طرف سے فراہم کردہ اربوں روپے کے فنڈز بھی کسی کام نہ آ سکے۔ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ فیسکو اور واسا کے نااہل اور لاپرواہ عملے کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے اور شہر میں بجلی کی بحالی اور بارشی پانی کے نکاسی کا بہتر انتظام کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں