بانیPTIریلیز فورس کا منصوبہ ختم،سخت گیر عناصر کو بڑا دھچکا

اسلام آباد(بیوروچیف) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ”عمران خان ریلیز فورس” بنانے کی مجوزہ منصوبہ بندی کو اندرونی اعتراضات اور قانونی خدشات کے بعد ترک کر دیا ہے، جسے پارٹی کے سخت گیر عناصر کے لیے بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔رمضان سے قبل خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے ایک مخصوص فورس کے قیام کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنا تھا۔منصوبے میں رضاکاروں سے حلف لینے اور باقاعدہ طور پر ارکان کی رجسٹریشن کرنے کے بعد منظم مہم شروع کرنے کی تجویز شامل تھی۔ تاہم یہ تجویز جلد ہی پارٹی کے اندر سے مزاحمت کا شکار ہو گئی۔ پی ٹی آئی چیئرمین گوہر علی خان نے اس خیال کو غیر آئینی اورغیر قانونی قرار دیا اور خبردار کیا کہ ایسی کسی فورس کی تشکیل عسکریت پسندی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔اندرونی مشاورت کے بعد پارٹی قیادت نے فورس کے تصور کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بجائے اس اقدام کو اب ایک وسیع، جامع سیاسی تحریک کی شکل دے دی گئی ہے جو تمام حامیوں کے لیے کھلی ہو گی، بغیر کسی حلف برداری یا کسی ایسی رسمی ساخت کے جو کسی فورس سے مشابہت رکھتی ہو۔ذرائع کے مطابق نظرثانی شدہ حکمت عملی تدریجی، پرامن اور جمہوری سڑکوں پر مبنی تحریک پر زور دیتی ہے۔ شرکت محدود نہیں ہو گی اور پارٹی نے واضح طور پر کسی بھی قسم کے تشدد یا عسکریت پسندی کو مسترد کر دیا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ سڑکوں پرکسی بھی احتجاج کے وقت اور نوعیت کے بارے میں فیصلے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے پاس نہیں ہوں گے۔ اس کے بجائے سڑکوں پر تحریک یا مارچ کے آغاز اور وقت سے متعلق فیصلے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کریں گے۔پارٹی کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا کہ نہ صرف پی ٹی آئی کے اندر بلکہ اتحادی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی وسیع مشاورت کی گئی ہے تاکہ ایک متحد اور محتاط حکمت عملی اپنائی جا سکے۔ذرائع کے مطابق سینئر پی ٹی آئی رہنماوں نے ماضی کے پرتشدد واقعات، جن میں 9 مئی کی بدامنی اور 2024 کے آخر میں اسلام آباد میں احتجاج کے دوران جھڑپیں شامل ہیں، کو دہرانے سے بچنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ انہوں نے پختہ یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ کسی بھی تحریک کو سختی سے پرامن اور آئینی حدود کے اندر رکھا جائے گا۔ ”فورس” سے ایک روایتی سیاسی تحریک کی طرف تبدیلی کو پی ٹی آئی کے سخت گیر عناصر کی شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ پارٹی کے اندر عملی اور محتاط موقف رکھنے والی آوازیں زیادہ جارحانہ حکمت عملی پر غالب آتی دکھائی دیتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں