بجلی مزید مہنگی’صارفین پر 30 ارب کا بوجھ ڈال دیا گیا

کراچی(بیوروچیف)نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)نے کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کیلیے بجلی مہنگی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق ستمبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی2روپے37پیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی، کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے صارفین پر اطلاق ہوگا۔صارفین سے اضافی وصولی نومبر کے بلوں میں کی جائے گی، بجلی صارفین پر 30ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے دو روپے 56 پیسے فی یونٹ اضافہ مانگا تھا۔ سماعت کے بعد نیپرا نے دو روپے 37 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی۔نیپرا کے مطابق ستمبر میں ریفرنس فیول کاسٹ 7 روپے 45 پیسے کے مقابلے میں 9 روپے 82 پیسے رہی۔ کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے تمام صارفین پر اطلاق ہوگا۔ تاہم لائف لائن صارفین اور الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کو استثنی حاصل ہو گا۔دوسری جانب پاور ڈویژن ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں کمی اور مہنگے سے بجلی کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی۔ دسمبر تا فروری فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی دو سے تین گنا بڑھنے کا خدشہ ہے۔ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی ایک روپے 30 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق دسمبر، جنوری، فروری میں لوڈ شیڈنگ کیساتھ بجلی قیمت میں اضافے کا امکان ہے، سردیوں میں ارسا پانی کی قلت کا 22 فیصد سے زائد تخمینہ دے چکی، اس دوران پن بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر رہنے کا امکان ہے۔آئندہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی ایک روپے 30 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا تخمینہ ہے، سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سیصارفین پر 22 ارب روپیکا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے، ستمبر کی فیول ایڈجسمنٹ مد میں 2.56 روپے اضافے کی درخواست پرسماعت ہوچکی، سی سی پی اے درخواست منظوری کی صورت میں صارفین پر 33 ارب روپے کا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں