ژوب (نامہ نگار)بلوچستان میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا، غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں آج 17 اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، لیکن افسوس کہ غربت، مہنگائی اور غذائی قلت نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔بلوچستان میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 50 کلو آٹے کی تھیلی 7 ہزار 400 روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جو ایک عام مزدور، ریڑھی بان اور دیہاڑی دار کی قوتِ خرید سے باہر ہے۔ ایک مزدور جو دن بھر محنت کرکے بمشکل 500 روپے کماتا ہے، وہ اپنے خاندان کے لیے آٹا اور دیگر بنیادی ضروریات کیسے پوری کرے؟دوسری جانب پنجاب سے بلوچستان کو آٹے کی فراہمی پر پابندی عائد کیے جانے کے باعث قلت پیدا ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ڑوب کے عوامی سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ حکام فوری طور پر آٹے کے بحران کا نوٹس لیں، مہنگائی پر قابو پائیں اور غریب عوام کو سرکاری نرخوں پر سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں، تاکہ کوئی بھی خاندان روٹی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم نہ رہے۔




