کوئٹہ (بیوروچیف) محکمہ داخلہ بلوچستان نے یکم جنوری سے 30جون تک صوبے میں دہشت گردی واقعات پراعدادوشمار جاری کردیے۔بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے یکم جنوری سے 30جون تک ششماہی اعداد وشمار کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں تیزی رہی اور دہشت گردی کے واقعات میں 45فیصد جبکہ سیٹلرز کی ٹارگٹ کلنگ میں 100فیصد اضافہ ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں رواں سال کے پہلے 6ماہ کے دوران دہشت گردی کے 501واقعات میں 133اہلکاروں سمیت 257افراد جاں بحق جبکہ 238اہلکاروں سمیت 492 افراد زخمی ہوئے۔رپورٹ کے مطابق رواں سال غیر مقامی افراد پر 14حملے ہوئے جن میں 52افراد جان سے گئے جبکہ 11زخمی ہوئے، بم، دستی بم،آئی ای ڈی، بارودی سرنگ دھماکوں اور راکٹ فائر کے مجموعی طور پر 81واقعات رونما ہوئے جن میں 26افرادجاں بحق اور 112افراد زخمی ہوئے۔گزشتہ 6ماہ کے دوران عام شہریوں پر حملے کے 39واقعات میں 11افراد جاں بحق جبکہ 29زخمی ہوئے، اسی عرصے کے دوران ٹرین پر دو حملوں میں 29افراد جاں بحق ہوئے۔اس کے علاوہ پولیو ورکز پر ہونے والے ایک حملے میں ایک ورکر جان سے گیا جبکہ موبائل فون ٹاورز پر حملے کے 9واقعات میں دو افراد زخمی ہوئے ۔




