بچوں کے دودھ میں زہریلا مواد

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک) بچوں کے دودھ میں زہریلے مواد کے انکشاف کے بعد فرانسیسی حکومت نے سخت پابندیاں عائد کردیں تفصیلات کے مطابق عالمی سطح پر بچوں کے آلودہ دودھ کی شکایات کے بعد فرانسیسی حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے زہریلے مادے سیریولائڈ کی محفوظ حد میں مزید کمی کر دی ہے۔یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا کے کئی بڑے فارمولہ ساز اداروں نے بڑے پیمانے پر ری کالز کا اعلان کیا، جس کے بعد عالمی سطح پر غذائی تحفظ پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔سیریولائیڈ ایک ایسا زہریلا مادہ ہے، جو عام طور پر خوراک میں بیکٹیریا کی موجودگی سے پیدا ہوتا ہے، جو بچوں میں شدید متلی اور الٹی، پیٹ میں مروڑ اور اسہال اور انتہائی صورتوں میں جگر کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔ فرانسیسی وزارتِ زراعت کی جانب سے جاری کردہ نئے قواعد میں کہا گیا کہ نئی حد 0.014 مائیکرو گرام فی کلو جسمانی وزن مقرر کی گئی ہے، جو موجودہ حد 0.03 مائیکرو گرام فی کلو کے مقابلے میں کافی کم ہے۔فرانسیسی حکام دسمبر اور جنوری میں دو بچوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کر رہے ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر یہ آلودہ دودھ پیا تھا، تاہم ابھی تک دودھ اور اموات کے درمیان براہ راست تعلق ثابت نہیں ہو سکا ہے۔یہ اقدام یکم فروری کو یورپی یونین کی میٹنگ اور یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی نئی رہنمائی کے مطابق کیا گیا ہے، نئی حد کی وجہ سے آئندہ چند روز میں فرانس میں مزید ری کالز متوقع ہیں۔متاثرہ برانڈز نیسلے، ڈینون اور لیکٹالِس جیسی بڑی کمپنیوں نے دنیا کے 60 سے زائد ممالک سے اپنی مصنوعات واپس منگوالی ہیں، جن میں زہریلے مادے سیریولائڈ سے آلودگی کا خدشہ ہے۔صارفین کے حقوق کی تنظیم فوڈ واچ نے پیرس میں آٹھ خاندانوں کی جانب سے کریمنل شکایت بھی دائر کی ہے، جن کے بچوں نے آلودہ فارمولہ کھانے کے بعد بیماری محسوس کی، اور شکایت میں کمپنیوں پر دیر سے عوام کو خبردار کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی آج 2 فروری کو اس حوالے سے حتمی رائے دے گی، جس کے بعد پورے یورپ میں نئے معیارات نافذ کیے جا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں