بڑے ہیروز کی فلمیں فلاپ ہوئیں تو امریکہ جانے کا سوچا’ غلام محی الدین

لاہور( شوبز نیوز)سینئر اداکار غلام محی الدین نے انکشاف کیا ہے کہ جب فلم انڈسٹری کے نامور ہیروز محمد علی، ندیم بیگ، وحید مراد اور شاہد جیسے بڑے ہیروز کی فلمیں بھی ناکامی کا شکار ہونے لگیں تو میںخوفزدہ ہوگیا تھا اور اسی صورتحال کے باعث امریکہ منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ایک انٹرویو میں غلام محی الدین نے کہا کہ یہ محمد علی، ندیم بیگ، وحید مراد اور شاہد کا عروج کا دور تھا لیکن اس کے باوجود ان کی فلمیں فلاپ ہو رہی تھیں جس سے انہیں بھی یہ خوف لاحق ہوگیا تھا کہ اگر ان کی فلمیں نہ چلیں تو ان کے دوست ہی مجھے جینے نہیں دیں گے۔ اسی دوران امریکہ میں مقیم دوستوں نے امریکہ آنے کی پیشکش کی۔غلام محی الدین نے بتایا کہ اس زمانے میں ٹی وی پر مرکزی کردار کا معاوضہ ساڑھے چار سو سے پانچ سو روپے تک ہوتا تھا اور وہ رقم بھی چند دنوں میں خرچ ہو جاتی تھی۔ اسی دوران فلمساز اور ہدایتکار شباب کیرانوی سے ملاقات ہوئی جنہوں نے انہیں فلمی دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دیا اور کہا کہ تم فلم کے اداکار ہو، کامیاب ضرور ہوگے، تاہم خدانخواستہ ناکام ہوئے تو وہ خود مجھے امریکہ بھجوا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ شباب کیرانوی کی حوصلہ افزائی کے بعد انہیں فلم میرا نام ہے محبت میں ہیرو کاسٹ کیا گیا جس میں ان کے مقابل بابرہ شریف تھیں۔ 1975 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں