فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ملکی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی آن لائن فراڈ کا مرکزی ملزم سابق چیئرمین فیسکو ملک تحسین اعوان گرفتار’ عدالت نے 5روزہ جسمانی ریمانڈ دیکر نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کر دیا، این سی سی آئی اے نے تحقیقات کو مزید بڑھا دیا، ملزم سابق چیئرمین فیسکو ملک تحسین اعوان کی جانب سے سنسنی خیز انکشاف کئے جا رہے ہیں’ سائبر کرائم اور حساس ادارے نے 8 جولائی 2025ء کو ملک تحسین اعوان کے ڈیرہ پر چھاپہ مار کر ملکی تاریخ کے سب سے بڑے آن لائن فراڈ نیٹ ورک کو پکڑا جہاں سے 149ملکی وغیر ملکی ملزمان کو حراست میں لیکر مرکزی ملزم ملک تحسین اعوان کے خلاف 7مقدمات درج کئے گئے’ ملک تحسین اعوان نے مذکورہ سات مقدمات میں آج 19جولائی تک عبوری ضمانت پر تھے۔ تاہم این سی سی آئی اے نے آٹھواں مقدمہ نمبری 150/25 اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید ارشد رضوی کی مدعیت میں درج کر کے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ملک تحسین اعوان کو گرفتار کر لیا اورگزشتہ روز سینئر سول جج ملک اشفاق کی عدالت میں پیش کیا تو فاضل عدالت نے 5روزہ جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے دوبارہ 23جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا جبکہ اس کے ساتھ بارہ غیر ملکیوں کا چار روزہ ریمانڈ دیکر 22جولائی کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ این سی سی آئی اے کی تحقیقات میں بتایا گیا کہ سابق چیئرمین فیسکو ملک تحسین اعوان کا چائنیز کمپنی کے ساتھ کرایہ داری کا معاہدہ بھی جھوٹا نکلا۔ چائنیز کمپنی کیساتھ 18اپریل 2025ء کو ایگریمنٹ لکھا گیا جبکہ ایگریمنٹ پر دونوں پارٹیوں کے دستخط 15اپریل 2025ء کو ہوئے اور معاہدہ میں 7چائنیز کے پاسپورٹ میں بھی ردوبدل پایا گیا اور ملک تحسین اعوان کے ڈیرہ پر پکڑے جانیوالے 72غیر ملکیوں کو واٹس ایپ پررجسٹرڈ کیا گیا اور جس پر جعلی اشٹام پیپر پر بوگس انٹریز کی گئیں اور ان کا ایک اور ساتھی آصف نواز جو کہ چائنیز کا فوکل پرسن بھی ملوث پایا گیا۔ یاد رہے کہ 8جولائی کو سائبر کرائم اور حساس ادارے نے سابق چیئرمین فیسکو ملک تحسین اعوان کے ڈیرہ شاہکوٹ سانگلہ ہل روڈ پر واقع 54ج ب سریالی میں چھاپہ مار کر ملکی تاریخ کا بڑا مالیاتی نیٹ ورک پکڑ کر وہاں پر موجود 149ملکی وغیر ملکیوں کو گرفتار کر کے بھاری تعداد میں لیپ ٹاپ’ ہارڈ ڈیسک’ کمپیوٹرز اور دیگر سامان برآمد کر کے ملک تحسین اعوان کے خلاف 7مختلف مقدمات درج کئے تھے اور ملک تحسین اعوان کی طرف سے سی پی او کو چائنیز کی سکیورٹی کیلئے لکھے جانیوالے لیٹر میں چائنیز کے کوائف غلط درج کئے گئے۔




