جدید مشینری کے استعمال سے زرعی ریسرچ میں نمایاں بہتری پیدا ہوگی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) بین الاقوامی ادارہ ”سی آئی ایم ایم وائی ٹی” (سمٹ) کے زرعی سائنسدانوں کے اعلیٰ سطحی وفد نے زرعی تحقیقاتی ادارہ گندم آری، فیصل آباد کا دورہ کیا۔وفد کی قیادت ”سمٹ” کے ڈائریکٹر گلوبل ویٹ پروگرام ڈاکٹر فلیویو بریسو گھیلو نے کی۔ ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچرل ریسرچ پنجاب ڈاکٹر ساجد الرحمن اور چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم ڈاکٹر جاوید احمد نے وفد کے شرکا کو پنجاب میں جاری زرعی تحقیق کے علاوہ بین الاقوامی ادارہ سمٹ کے اشتراک سے گندم کی متعارف کردہ اقسام کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ڈاکٹر ساجد الرحمن نے بتایا کہ ادارہ کے زرعی سائنسدانوں نے 1960 سے لیکر ابتک گندم کی 70 سے زائد اقسام متعارف کروائی ہیں جن میں میکسی پاک، انقلاب، سحر، پنجاب 2011,فیصل آباد 2008، اکبر، نواب، سویرا اور فلک شامل ہیں۔ اس موقع پر ایک زرعی سیمینار کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے زرعی سائنسدانوں اور ترقی پسند کاشتکاروں نے شرکت کی۔ پاکستانی زرعی سائنسدانوں نے وفد کے شرکا سے باہمی تبادلہ خیال کے دوران گندم کی زرعی تحقیقاتی میں مزید جدت لانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ زرعی سائنسدانوں نے گندم کی تحقیق کے دوران فصل کی کاشت سے برداشت تک کے مختلف مراحل کے دوران جدید زرعی مشینری کے استعمال پر بھی بات چیت کی۔ ڈاکٹر فلیویو بریسو گھیلو نے بتایا کہ بین الاقوامی ادارہ سمٹ 1960کی دہائی سے پاکستان میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لئے تعاون کرتا آرہا ہے۔ بین الاقوامی ادارہ سمٹ کے پاکستان میں جرم پلازم کی منتقلی اور مقامی اقسام سے کراسنگ کے ذریعے متعارف کردہ گندم کی اقسام کی تیاری کے بعد پہلے زرعی انقلاب کی راہ ہموار ہوئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نے پاکستان میں گندم کی فصل پر ریسرچ کرنے تمام 13 مراکز کے لئے کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی مشینری فراہم کی ہے۔ اس جدید مشینری کے استعمال سے زرعی ریسرچ میں بہتری لانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ پاکستان میں زرعی خود کفالت کا حصول ممکن ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں