واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی تنا اور آبنائے ہرمز سے متعلق پیدا ہونے والے خدشات نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا، جس کا براہِ راست اثر عالمی آئل مارکیٹ پر پڑا۔امریکا کی جانب سے ایران میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ انہی خدشات کے باعث بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔بین الاقوامی معیار کے حامل برطانوی خام تیل (برینٹ کروڈ)کی قیمت میں 3.75 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 78.86 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ اسی طرح امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 3.65 فیصد اضافے کے بعد 74 ڈالر فی بیرل پر جا پہنچی، جبکہ مربن خام تیل بھی مہنگا ہو کر 73.25 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس راستے پر نقل و حمل متاثر ہوئی تو نہ صرف عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ایندھن درآمد کرنے والے ممالک، خصوصا پاکستان، کو بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور درآمدی اخراجات میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔




