نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ غزہ ہیومینیٹیرین فانڈیشن (جی ایچ ایف) کے قیام کے بعد سے اب تک اسرائیلی فورسز نے غزہ میں خوراک کے حصول کی کوشش کرنے والے ایک ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ فانڈیشن 26مئی کو اس وقت قائم کی گئی تھی جب اسرائیل نے غزہ میں 2ماہ سے زائد عرصے تک اشیائے خور و نوش کی ترسیل بند رکھی، جس کے بعد قحط کے خدشات بڑھ گئے تھے۔فائونڈیشن کے کاموں کے دوران امدادی مراکز پر بدنظمی اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے راشن لینے والوں پر روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ وہ حماس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کے ترجمان ثمین الخیطان نے اے ایف پی کو بتایا کہ غزہ ہیومینیٹیرین فائونڈیشن کے کام شروع ہونے کے بعد سے خوراک لینے کی کوشش میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 21جولائی تک ہمارے پاس ایک ہزار 54 فلسطینیوں کے شہید ہونے کا ریکارڈ موجود ہے، جن میں سے 766جی ایچ ایف کے مراکز کے قریب اور 288اقوام متحدہ اور دیگر امدادی قافلوں کے آس پاس شہید کیے گئے۔انہوں نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار زمینی ذرائع، طبی ٹیموں، انسانی حقوق و امدادی تنظیموں کی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔ادھر غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال کے سربراہ نے بتایا کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران غذائی قلت اور بھوک کے باعث 21 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ اسرائیل کی جانب سے حملے مسلسل جاری ہیں۔الشفا میڈیکل کمپلیکس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے میڈیا کو بتایا کہ غزہ میں بھوک کا شکار نئے مریض ہر لمحے ہسپتالوں میں لائے جا رہے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ ہم ایسے خطرناک مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں بھوک سے اموات کی تعداد ناقابلِ تصور ہو سکتی ہے۔غزہ کی 2 ملین سے زائد آبادی خوراک اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی شدید قلت کا شکار ہے، اور شہریوں کو محدود مقامات سے امداد حاصل کرتے وقت بھی اسرائیلی حملوں کا سامنا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے منگل کو اپنی تقریر میں غزہ کو ایک ہولناک تماشہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حالیہ تاریخ میں ہلاکتوں اور تباہی کی ایک بے مثال صورت ہے۔امدادی مراکز پر بدنظمی اور قتل کے مناظر فانڈیشن کے قیام کے بعد معمول بن چکے ہیں۔




