زرعی ورثے کو کمیونٹی کے تعاون سے یقینی بنایا جاسکتا ہے،پروفیسر ڈاکٹر اقرار

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان اور بیرون ملک سے آئے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ زرعی میوزیم کے ذریعے زرعی ورثے کو محفوظ بناتے ہوئے جدت، تعلیمی و تحقیقی تعاون اور کمیو نٹی کی شمولیت سے زرعی شعبے میں ترقی اور غذائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اس ضمن میں جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں پاکستان کا پہلا زرعی میوزیم ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ماہرین نے جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر ایکسٹینشن ایجوکیشن اینڈ رورل ڈویلپمنٹ اور محکمہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس کے تعاون سے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سمپوزیم وراثت سے جدت تک: مستقبل کے لیے زرعی ورثے کا تحفظ کے افتتاحی روز خطاب کیا۔ چیئرپرسن، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے غذائی تحفظ اور ترقی کے لیے جدید زرعی تحقیق اور اداروں کے مابین دوطرفہ تکنیکی تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب ایگریکلچرل کالج اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، لائل پور (جو اب زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ہے) برصغیر کا پہلا زرعی ادارہ تھا جسے فیمین (قحط) کمیشن کی سفارش پر قائم کیا گیا تھا۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکے اولڈ کیمپس کا فنِ تعمیر نامور معمار بھائی رام سنگھ نے ڈیزائن کیا تھا۔انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباداور واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کے درمیان 1961 سے قائم تاریخی شراکت داری پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں موجود ”امریکن کالونی” میں 1960 کی دہائی میں 13 امریکی سائنسدان اور پروفیسرز 10 سال تک مقیم رہے، جو دونوںاداروںتعلیمی ہم آہنگی کی ایک زندہ مثال ہے۔زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ یہ پاکستان میں پہلا زرعی میوزیم ہوگا جس کا انڈور (اندرونی) رقبہ 55,000 مربع فٹ اور آؤٹ ڈور (بیرونی) رقبہ 32,000 مربع فٹ ہوگا۔ اس میں 30 سے زائد انڈور گیلریاں اور ایک ”ہال آف فیم” ہوگا، جہاں روایتی اوزاروں سے لے کر جدید ہائیڈروپونکس اور گرین ہاؤس ماڈلز کی نمائش کی جائے گی۔ڈاکٹر پال وہٹنی ،و ائس پریذیڈنٹ انٹرنیشنل پروگرام واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے ر جدت کے فروغ میں تعلیمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں