ساہیوال (بیورو چیف) کیمیکل سے تیار زہر یلے دودھ کی کھلے عام فروخت گلے اور چھاتی کے کینسر کا سبب بنے لگا۔ ایک لاکھ سے زائد دودہ پینے والے شیر خوار بچے چھاتی کے خطرناک اور جان لیوا امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی اور دیگر اداروں کی کاروائیاں فوٹو سیشن اور دیگر ہوں تک محدود ہو کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس وقت ساہیوال اور گردو نواح میں کیمیکل سے دودھ تیار کرنیوالا یہ بااثر مافیا روزانہ پانچ لاکھ لیٹر زہریلا دودھ فروخت کرتے ہیں اور شہری اپنے بچوں کیلئیدودھ کی صورت میں موت خرید کرتے ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شہر کے 99 فیصد ہوٹلوں پر اس زیر پلے دودھ کی چائے دہی تیار کر کے فروخت کی جارہی ہے۔ مین شاہراہوں اور شہر کے گنجان آباد علاقوں میں دکانوں میں کیمیکل سے دودھ تیار کرنے والے چھوٹے بڑے پوائنٹس موت کے اس کا روبار میں مصروف ہیں۔ اس وقت ساہیوال میں کیمیکل سے دودھ تیار کرنے والی بڑی بڑی مشنیں رکھ کر روزانہ ہزاروں لیٹر جائے۔ زیر یلا دودھ تیار کر کے فروخت کیا جاتا ہے اور بھی کبھار فوڈ اتھارٹی و دیگر افسران ریڈ کر کے دو پانچ ہزار روپے نقد جرمانہ عائد کر کے رقم وصولی کے بعد چلے جاتے ہیں ۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ، ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ڈپٹی کمشنر ساہیوال سے مطالبہ کیا ہے کہ کیمیکل سے تیار ہونیوالے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کر کے اس دھندہ میں ملوث عناصر کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔




