کراچی(بیوروچیف) سندھ اور بلوچستان کا آئندہ مالی سال 2026-27 کے لئے بجٹ آج پیش کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بجٹ پیش کریں گے، 720ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں 3715سے زائد سکیمیں شامل ہیں، سندھ کی مجموعی آمدن کا 73فیصد این ایف سی پر انحصار ہوگا۔بجٹ کے دوران تنخواہوں میں 10 اور پنشن میں 8 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ کا مجموعی ترقیاتی بجٹ رواں سال کے مقابلے میں 28 فیصد کم ہوگا، سندھ ڈویلمپنٹ بجٹ میں 256 ارب روپے فارن پراجیکٹ اسسٹنس کے لئے مختص کئے گئے ہیں، سندھ بجٹ میں پی ایس ڈی پی 68 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ڈسڑکٹ اے ڈی پی 55 ارب روپے سے کم کر کے 15 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، صوبائی ترقیاتی پروگرام 385 ارب روپے کا ہوگا، سندھ ترقیاتی بجٹ میں 3594 جاری سکیمز شامل ہیں۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں غیر منظور شدہ 120 سکیمز شامل ہیں، محکمہ بلدیات کی 972 فراہمی و نکاسی آب ڈرینج کی 830 سکیمز سندھ بجٹ کا حصہ ہیں، محکمہ ورکس اینڈ سروسز کی 297 ایجوکیشن سیکٹر کی 655 سکیمز سندھ بجٹ کا حصہ ہے۔قیام امن سے متعلق اداروں کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 6300 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز سکیمز کیلئے 1500 ملین روپے مختص، فاسٹ ٹریک جاری سکیمز کی تکمیل کا بجٹ 6000 ملین روپے مختص کیا گیا ہے، جبکہ پسماندہ اضلاع کی سکیمز کیلئے 250 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔دوسری جانب بجٹ اجلاس سے قبل سندھ کابینہ کا اجلاس آج صبح 11 بجے ہوگا، اجلاس میں رواں مالی سال کے ضمنی اخراجات پیش کئے جائیں گے۔سندھ کابینہ کو چیئرمین پی اینڈ ڈی سالانہ ترقیاتی پروگرام پر بریفنگ دیں گے، سندھ کابینہ آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ تجاویز کی منظوری دے گی۔سندھ کابینہ سے گزشتہ اجلاسوں کے منٹس، سرکولیشن سمری اور فنانس کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق لی جائے گی۔بلوچستان کے وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی آئندہ مالی سال کیلئے 11سو ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کریں گے۔حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی محاصل سے آمدن کا تخمینہ 795ارب 13کروڑ روپے سے زائد ہے، وفاقی محاصل میں سے قابل تقسیم محاصل سے آمدنی کا تخمینہ 7سو 71ارب 39کروڑ روپے ہے۔اِسی طرح گیس کی مختلف مدات سے براہ راست منتقلیوں کی مد میں 23ارب 74کروڑ روپے کی آمدنی متوقع ہے، بلوچستان کے صوبے کے دائرہ اختیار میں آنے والے ٹیکسز سے آمدنی کا تخمینہ ڈیڑھ سو ارب روپے سے زائد ہے۔ذرائع نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 7سو ارب سے زائد ہونے اور ترقیاتی اخرجات کا حجم ڈھائی سو سے 3سو ارب ہونے کا امکان ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ بھی سرپلس ہونے کا امکان ہے، بجٹ میں تعلیم ، صحت اور پانی کے شعبوں کو ترجیح دی جارہی ہے، امن و امان اور شاہراہوں کی تعمیر کے شعبوں کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیئے جارہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ تعلیم کے شعبے کے لیے ایک سو 60ارب سے زائد مختص کیئے جانے کا امکان ہے، صحت کے شعبے کے لیے 85ارب روپے سے زائد کی رقم متوقع ہے۔صوبائی بجٹ میں امن و امان کے شعبے کے لیے 100ارب روپے سے زائد مختص کیئے جانے کا امکان ہے، محکمہ مواصلات و تعمیرات کے شعبے کے لیے 40ارب روپے سے زائد کی رقم رکھی جارہی ہے۔حکومتی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پینے کے صاف پانی کے شعبے کے لیے 17ارب روپے سے زائد کی رقم رکھے جانے کا امکان ہے جب کہ وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ متوقع ہے۔




