سنٹرل سلیکشن بورڈ کے فیصلے کالعدم

اسلام آباد (بیوروچیف) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پولیس سروس، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور سول سروس سے تعلق رکھنے والے 21 افسران کی ترقیوں کے کیسز نئے سرے سے زیرِ غور لانے کا حکم دے دیا۔عدالت کا تفصیلی فیصلہ جسٹس انعام امین منہاس نے جاری کیا، فیصلے میں گریڈ 20 اور 21 میں ترقی سے محروم رہنے والے 21 افسران کی درخواستیں منظور کر لی گئیں اور سنٹرل سلیکشن بورڈ کو ہدایت کی گئی کہ افسران کے کیسز کا جائزہ پروموشن رولز 2019 کے مطابق دوبارہ لیا جائے۔فیصلے میں کہاگیاہے کہ پٹیشنرز کے کیسز کا مروجہ طریقہ کار کے مطابق جائزہ لیا جائے اور منفی رائے کی صورت میں واضح وجوہات ریکارڈ پر لائی جائیں۔درخواست گزاروں میں ڈاکٹر مطاہر شاہ، اقبال احمد شیخ، شکیل احمد شکیل، مرزا ناصر علی ، مطیع الرحمن ممتاز، ولایت خان، سید علی عدنان زیدی، محمد زاہد، ممتاز علی بوہیو، محمد امین قریشی اور عتیق الرحمن مغل شامل ہیں۔محمد اسلم جمرو، ڈاکٹر محمد اختر عباس، نثار احمد خان، بلال احمد بٹ، ساجد حسین آرائیں اور ارباب قیصر احمد بھی پٹیشنرزمیں شامل ہیں۔ناصر خان، اسرار احمد خان، مجاہد اکبر خان اور آغا محمد یوسف نے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں