شوگر’دل اور فالج کے مریضوں کیلئے نیند کی کمی خطرناک

سویڈن(مانیٹرنگ ڈیسک)ذیابیطس، دل کی بیماری اور فالج ایسے مسائل ہیں جن سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہیں۔ ان بیماریوں کے شکار افراد عموما اپنی خوراک، ادویات اور روزمرہ معمولات پر توجہ دیتے ہیں، لیکن ایک اہم چیز اکثر نظر انداز ہوجاتی ہے اور وہ ہے رات کی نیند۔ نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ اچھی نیند ان مریضوں کے دماغ کو ان بیماریوں کے بعض منفی اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔تحقیق کے مطابق، ٹائپ 2 ذیابیطس، دل کی بیماری یا فالج میں مبتلا وہ افراد جو بہتر نیند لیتے ہیں، ان کی یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ان مریضوں کے مقابلے میں بہتر ہوتی ہے جو نیند کے مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اچھی نیند لینے والے افراد کے دماغ کا حجم بھی نسبتا زیادہ پایا گیا۔یہ نتائج اس لیے اہم ہیں کہ ذیابیطس اور دل کی بیماریاں صرف خون میں شوگر کی سطح یا دل کی کارکردگی کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ دماغی صحت پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ ان بیماریوں کو یادداشت میں کمی، ذہنی صلاحیت متاثر ہونے اور ڈیمنشیا کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ٹائپ 2 ذیابیطس میں خون میں شوگر کی سطح زیادہ رہنے سے وقت کے ساتھ خون کی نالیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح دل کی بیماریاں بھی دماغ تک خون کی فراہمی کو متاثر کرسکتی ہیں۔ فالج کی صورت میں تو دماغ کے کسی حصے تک خون کی فراہمی رکنے یا متاثر ہونے سے دماغی خلیات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ایسی صورتحال میں بعض افراد کو یادداشت، توجہ مرکوز کرنے اور معلومات سمجھنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا بہتر نیند ان بیماریوں کے دماغ پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے میں کوئی کردار ادا کرسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں