فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) جامعہ لاثانیہ میں جے یوپی کے زیر اہتمام سالانہ برسی قومی ہیرو و مجاہد شہید 1857جنگ آزادی رائے احمد خاں کھرل پر عظیم الشان سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں جملہ مکاتب فکر کے اکابرین علما مشائخ معززین نے بھر پور شرکت کی۔ اس موقع پر ملک کے ممتاز عالم دین علامہ محمد ریاض کھرل نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ جنگ آزادی کے عظیم ہیرو شہید احمد خاں کھرل کی بہادری آزادی وطن کی جدو جہد کو خطہ کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا گیا ہے جنہوں نے انگریز سامراج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی جان دینے سے گریز نہ کیا نوجوان نسل کو تاریخی ہیروز کے کارناموں سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ان کے نقش قدم پر چل کر ملک وقوم کا نام روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ شہید احمد خاں کھرل نے اپنے کارناموں سے نہ صرف فیصل آباد بلکہ صوبہ پنجاب کا نام روشن کیا انکی لازوال خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس موقع پر ڈاکٹر پروفیسر سید افتخار حسین نقوی ‘مفتی مظفر اقبال ‘علامہ عزیز الحسن اعوان ‘مولانا غلام اللہ خاں’ علامہ محمد تنویرطاہر راٹھور ‘پیر قاری محمد عاشق نعیمی مدنی’ صاحبزادہ محمد احمد رضا ‘قاری ہارون چشتی ‘علامہ رضا امین سیفی ‘مولانا سجاد احمد سر داری’ مولانا محمد اکرم میدانی’علامہ اصغر مہروی ‘ڈاکٹر محمد عطا المصطفے و دیگر مقررین نے کہا کہ شہید رائے احمد خاں کھرل نے نامساعد حالات قلیل ترین وسائل ہونے کے باوجودجنگ آزادی کی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑے آج ارض وطن کی فضائیں انھیں تمام شہدا کو یاد کرتی ہیں ہم سلام عقیدت پیش کرتے ہیں مقررین نے کہا کہ دشمن قوتیں پاکستان میں انتشار عدم استحکام پیدا کر کے قومی یک جہتی کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں پوری قوم مسلح افواج اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ مل کر دشمن قوتوں کی تمام ناپاک سازشوں کو قومی اتحاد سے ناکام بنا دیں دریں اثنا جھامرہ مقبرہ رائے احمدخاں کھرل پر سالانہ غسل ‘ مزار کی تقریب ہوئی جسمیںنمبردار آف جھامرہ رائے شہر یار خاں کھول ودیگر معززین برادری نے صاحبزادہ پیر مفتی محمد اقبال کھرل کی قیادت میں پھولوں اور سلام عقیدت راہ حق کے مسافر کو پیش کیا شہزاد رائے’ اقبال خاں رائے’ نوید رضا و دیگر بھی ساتھ تھے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعہ ریاست سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ نصاب تعلیم میں قومی ہیرو شہید احمد خاں کھرل کی جد و جہد آزادی کو شامل کرے تاکہ نسل نو میں جذبہ حب الوطنی متحرک ہو۔




