صفدرآباد(نامہ نگار)گلی محلے کی دکانوں پر سگریٹ اور زہریلی نسوار سر عام بکنے لگی،چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں ، گلی سے گزرتے لوگ بھی دکانداروں کو بد دعائیں دینے لگے لیکن چیف آفیسر اور اسسٹنٹ کمشنر گہری نیند سو رہے ہیں۔جن لوگوں نے شہریوں کی زندگی میں سہولیات بہم پہنچانی ہیں اگر وہی لوگ سو تے رہیں تو ذرا سوچیئے اس ملک کا کیا بنے گا۔نسوار پر تو پابندی لگنی چاہیئے اگر حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتین نسوار پر پابندی نہین لگائین گی تو پھر آئندہ چند سالوں تک اس ملک کا ہر شہری گلے،سانس،پھیپھڑوں،جگر،معدہ اور دل کے امراض میں مبتلا ہو جائے گا۔ڈیلی بزنس رپورٹ نے سروے کیا تو پتا چلا کہ شہر کہ تمام گلیوں میں عموماً اور چند گلیوں میںخصوصاً ایک ایسی قسم کی نسوار بک رہی ہے جو کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔




