صوبائی لاء کمیشن کا قیام وقت کی ضرورت ہے ،پنجاب بار کونسل

لاہور(بیوروچیف)پنجاب بار کونسل نے کہا ہے کہ قانون سازی کے عمل کو مزید مضبوط بنا نے کیلئے وکلاء تنظیموں کی وسیع تر مشاورت سے موثر صوبائی لا ء کمیشن کا قیام وقت کی ضرورت ہے ،صوبائی لا ء کمیشن کے قیام اور قانونی اصلاحات کے ذریعے انصاف کی فراہمی اور گورننس کے نظام کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے ،آئندہ مالی سال کیلئے پیش کئے جانے والے بجٹ میں وکلا ء کی فلاح بہبود کیلئے خصوصی سکیمیں دی جائیںکیونکہ موجودہ معاشی حالات میں تمام طبقات شدید مالی دبا ئوکا شکار ہیں ۔وائس چیئرمین خواجہ قیصر بٹ اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ بجٹ میں وسائل سے محروم طبقات کے لیے خصوصی امدادی اور سماجی تحفظ کے پروگرامزمتعارف کرائے جائیں،مفت قانونی معاونت کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وکلا ء کے لیے آسان قرضوں، ہیلتھ انشورنس اور ہائوسنگ سکیموں کا اجرا ء بھی وقت کی اہم ضرورت ہے،وکلا ء فلاحی فنڈ میں اضافہ کر کے پیشہ ورانہ مسائل کے حل میں مدد دی جا سکتی ہے۔پنجاب بار کونسل کے عہدیداران نے کہا کہ عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے کے لیے عدالتی انفراسٹرکچر کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے،بجٹ میں عوامی ریلیف اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے والی پالیسیوں کو ترجیح دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں قانونی خلا ء کے حوالے سے وکلاء تنظیموں سے باقاعدہ تجاویز طلب کی جائیںتاکہ ان کی روشنی میں موثر قانون سازی کی جا سکے ۔حکومت فوجداری قوانین اوردیگر معاملات پر بھی تجاویز طلب کرے ۔انہوںنے کہا کہ تحقیقاتی نظام، پراسیکیوشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار میں شفافیت کے ذریعے انصاف کی فراہمی کا عمل مزید تیز ہو سکتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ قانونی تعلیم کے معیار، جعلی ڈگریوں کے خاتمے اور وکلا ء کے پیشہ ورانہ معاملات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں