ختم نبوت پر ایمان اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ اس پر اسلام کی ساری عمارت کھڑی ہے۔عقیدہ ختم نبوت پر ایمان اور اس کا تحفظ دین کا لازمی اور بنیادی تقاضا ہے۔ تقریباً1000آیات قرآنی اور 210احادیث مبارکہ میں ختم نبوت کا ذکر پوری وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی ۖاللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپۖ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ قرآن کریم آخری آسمانی کتاب ہے۔ اور امت محمدیہ آخری امت ہے۔ اسلام کے اس اساسی عقیدہ پر ہر مسلمان کاایمان ہونا لازمی ہے۔قرآن کریم نے واضح الفاظ میں نبی کریمۖکو خاتم النبیین قرار دیکر اس عقیدے کی قطعی حیثیت بیان فرمائی ۔ امت مسلمہ کا چودہ صدیوں سے متفقہ عقیدہ ہے کہ رسالت محمدیۖ آخری اور کامل رسالت ہے۔ جس کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہو چکا ہے۔ ختم نبوت پر ایمان در اصل محبت رسولۖ، اطاعت رسولۖ اور دین اسلام کی تکمیل پر یقین لازمی تقاضاہے۔ یہی عقیدہ مسلمانوں کے ایمانی تشخص کی بنیاد اد اور اور امت کے اتحاد کا اہم مرکز بھی ہے۔ نبی کریمۖ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ اب میرے بعد نبوت نہیں بلکہ خلافت ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہ نبی کریم ۖ نے ارشاد فرمایا۔ (پہلے زمانے میں)بنی اسرائیل کی قیادت ان کے انبیا کیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی وصال فرما جاتا۔ تو اللہ پاک دوسرا نبی مبعوث فرما دیتا۔ (پھر میری بعثت ہو گئی)اب میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا۔ (چونکہ میں آخری نبی ہوں۔ لہٰذا میرے بعد) اب میرے خلفا ہوں گئے۔ جو بکثرت ہونگے (صحیح بخاری 3288)اس حدیث مبارکہ سے واضح ہو گیا کہ پہلے زمانے میں لوگوں کیلئے اللہ تعالی کا قائم کردہ اجرا نبوت کا نظام جو حضرت آدم علیہ السلام سے جاری ہوا تھا۔ وہ نبی آخر الزماں حضرت محمدۖ کی بعثت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ اب امت مسلمہ میں لوگوں کی رہنمائی کیلئے قیامت تک خلافت و نیابت محمدیۖ کا نظام رو بہ عمل ہے۔ اب قیا مت تک اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے دین مکمل کر دیا اور اجرائے نبوت کانظام ختم کرکے اس کی جگہ نبوت محمدیۖکا نظام جا ری فرمادیا ہے۔ لہٰذا اب کسی نبی کی بعثت کی ضرورت نہیں رہی۔ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ ختم نبوت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قادیانیت اسلام کے خلاف سازش اور نبوت محمدیۖ کیخلاف بغاوت ہے۔ امت مسلمہ نے سرکار دو عالم ۖ کو تمام تر عظمت و شان کے ساتھ تمام انبیا و رسولوں کا امام و سردار اور نبی آخر الزمان تسلیم کیا۔قرآن مجید میں وارد لفظ خاتم النبین میں کسی قسم کی تاویل وتخصیص کرنے والا قرآن مجید کی تکذیب کرتا ہے۔ چودہ صدیوں سے امت محمدیہ کا اس پر اجماع ہے کہ اب مدعی نبوت اور اس کے پیرو کار خارج از اسلام اور مرتد ہیں۔ اسلام کی پوری تاریخ میں جب بھی کسی سر پھرے طالع آزما یا فتنہ پرواز نے اپنے آپ کو نبی کہنے کی جرأت کی مسلمانوں نے اس کا مقابلہ میدان جہاد میں کیا۔ ہر مسلمان کا غیر متز لزل عقیدہ اور ایمان یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیۖآخری نبی ہیں۔حضورۖکی تشریف آوری کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ حضو ر ۖ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ جو شخص اپنے نبی ہونے کا دعوی کرتا ہے۔ اور جو بدبخت اس کے دعوی کوسچا تسلیم کرتا ہے۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے۔ پاکستان واحد خوش بخت اسلامی ملک ہے جس نے منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو سب سے پہلے سرکاری سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اب اختصار کے ساتھ ختم نبوت پر دلالت کرنے والی آیات واحادیث وآثار اور دسرے نقلی و عقلی دلائل کا ذکر کرتے ہیں۔ (1) محمدۖ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور سب انبیا کے آخر میں ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے (الاحزاب 40)۔ (2) آپۖ کوسب انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا۔ (الاعراف۔ (158)۔ (3) تمام لوگوں کیلئے بشیر ونذیر بنایا گیا۔ (سبا۔22)۔ (4)اورہر جہان کیلئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ (الانبیا۔107)۔(5) اللہ تعالیٰ نے سب انبیا سے یہ عہد لیا۔ کہ جب حضور ۖکی تشریف آوری ہو تو وہ ان پر ایمان لائیں۔ اور انکی مدد کریں۔ (آل عمران۔ 81) ۔ (6) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تورات کی تصدیق کی ۔ اور رسول کریمۖ کی آمد کی بشارت دی (الصف۔6)جبکہ نبی کریمۖ نے اپنے بعد کسی نبی کے آنے کی خبر نہیں دی۔ آپۖ کے لائے ہوئے دین کو مختلف پہلوئوں سے دیکھا جائے تو قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آپۖکا دین کامل کر دیا۔ (المائدہ۔3) یعنی یہ پچھلے دینوں کی طرح منسوخ نہ ہو گا۔ بلکہ قیامت تک باقی رہے گا۔ حضور نبی کریمۖکی ختم نبوت کا تذکرہ کتب حدیث میں کثرت سے ملتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہ حضور نبی پاکۖ نے ارشاد فرمایا۔ ”میری اور مجھ سے پہلے انبیا کی مثال ایسی ہے۔ جیسے کسی شخص نے گھر تعمیر کیا۔ اور اس کو خوب آراستہ و پیراستہ کیا۔ لیکن ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ آکر اس مکان کو دیکھنے لگے۔ اور خوش ہونے لگے۔ اور کہنے لگے۔ یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔ (پھر) آپۖ نے ارشاد فرمایا۔ پس میں وہی آخر ی اینٹ ھوں۔ اور میں ہی خاتم النبیین ہوں (صحیح بخاری۔ 3342)مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں نبی کریم ۖ نے ختم نبوت کو ایک بلیغ مثال سے واضح فرمایا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہ رسول کریمۖ نے فرمایا۔ مجھے دیگر انبیا پر چھ چیزوں کے باعث فضیلت دی گئی۔ میں جوامع الکلم سے نوازا گیا ہوں، اور رعب کیساتھ میری مدد کی گئی ہے اور میرے لیے اموال غنیمت حلال کیے گئے۔ اور میرے لیئے ساری زمین پاک کر دی گئی۔ اور سجدہ گاہ بنادی گئی ہے۔ اور میں تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور میری آمد سے انبیا کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ (صحیح مسلم (523)ذیل میں ان چند احادیث مبارکہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جن میں جھوٹے مدعیان نبوت کہ کا تذکرہ ملتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ کہ نبی کریم ۖنے فرمایا۔ قیامت اس وقت تک وقوع پذیر نہیں ہوگی۔ جب تک تیس کے قریب دجال کذاب نہ پیدا ھو جائیں۔ ہر ایک کا دعوی ہوگا کہ وہ نبی ہے۔(صحیح بخاری -4313) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مردی ہے۔ کہ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میری امت میں ستائیس جھوٹے دجال پیدا ہونگے۔ ان میں سے چار عورتیں ہونگی۔ سن لو۔میں سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (مسند احمد ۔23406) احادیث میں سے چند ایک احادیث مبارکہ ذکر کی جائیں گی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عظیم المرتبت صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے کوئی صحابی بھی نبوت کا حامل نہیں۔ اس لئے باب نبوت عطیہ خداوندی حضور ۖپر ختم ہو چکا ہے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ۖنے ارشاد فرمایا ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ھوتا ، (جامع ترمذی ۔13684)۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ۖنے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں چھوڑ دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (بطور نیاز مندانہ شکایت کے) عرض کی۔ یا رسول اللہ ۖ۔ کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کرجارہے ہیں؟ آپ ۖنے فرمایا۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو۔ کہ میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہو۔ جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔ یعنی جس طرح حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر تشریف لے گئے۔ تو ہارون علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے پاس اپنا نائب چھوڑ کر گئے۔ اسی طرح تم اس وقت میرے نائب ہو۔ البتہ میرے بعد بنی نہیں ہوگا۔ (صحیح بخاری – 4154)اللہ تعالی اپنے محبوب کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ کرم سے ہمیں عقیدہ نبوت پر کار بندرہنے اور اس کے تحفظ کیلئے ہمیشہ عملی کام کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔




