1965ء کی جنگ میں پاک بحریہ کا کردار

نظریاتی تصور کے تحت وجود میں آنے والی ریاستِ پاکستان،اپنے قیام کے آغاز سے ہی شدید بحرانوں کا شکار رہی،جن میں اثاثوں کی غیر منصفانہ تقسیم سرِ فہرست ہے۔پاکستان کے ہر شعبہ ہائے زندگی کی طرح پاک بحریہ بھی اس ناانصافی کا شکار ہوئی۔اس شدید بحران سے جانبر ہونے میں ایک طویل وقت درکار رہا۔2 جون 1947 کو ہندوستان میں دو مملکتوں کے قیام کے فیصلے کے ساتھ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ”تقسیم کے انتظامی نتائج” کے نام سے ایک مراسلہ شائع کیا، اس عمل سے پہلے برصغیر میں انتظامی افراتفری سے بچاؤ، سرحدوں کے حتمی تعین، افواج میں اداروں اور اثاثوں کی تقسیم جیسے بہت سے دیگر امور بھی زیرِغور تھے۔ فوج کی تقسیم کی ذمہ داری کمانڈ ر اِن چیف فیلڈ مارشل سرکلاڈ آکنلیک کے سپرد تھی۔ فوج کی تنظیمِ نو کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا کام فوج کی تقسیم کے لیے پالیسیاں بنانا تھا،جبکہ ذیلی کمیٹیوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تفصیلی سفارشات مرتب کریں۔تین ذیلی کمیٹیوں میں بحری معاملات کی کمیٹی کی سربراہی کموڈورجیمز ولفریڈ جیفورڈ(بعد ازاں رئیر ایڈمرل کمانڈر اِن چیف رائل پاکستان نیوی) کی ذمہ داری تھی۔جب کہ کمیٹی میں کمانڈر حاجی محمد صدیق چوہدری(بعد ازاںوائس ایڈمرل،پاک بحریہ کے پہلے پاکستانی سربراہ) کے علاوہ دیگر آفیسرز بھی شامل تھے۔12 جولائی 1947ء کو رائل انڈین نیوی کے جہازوں کی تقسیم کا اعلان کیا گیا۔جس میں جہازوں کی عددی تقسیم کی بجائے دونوں حکومتوں کی ضروریات کو مدِ نظررکھا جانا تھا، پاکستان کے دونوں حصوں میں فاصلہ ذیادہ ہونے کی بنا پر ایسے جہازوں کی ضرورت تھی جو طویل عرصے تک سمندر پر رہنے کے قابل ہوں، لیکن بحری اثاثوں کی یہ تقسیم پاکستان کی ضروریات کے مطابق نہیں تھی۔7 اگست کو پاکستان کے نامزد گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نئی دہلی سے کراچی روانہ ہوئے تو ان کے اے ڈی سی لیفٹیننٹ سید محمد احسن (بعد ازاں رئیرایڈمرل،سربراہ پاک بحریہ) بھی قائد کے ہمراہ تھے، وہ ایک دن پہلے تک وائسرائے کے اے ڈی سی تھے۔بحریہ کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کے ممبران 12 اگست کو کراچی پہنچے تاکہ نئی مملکت کی بحریہ کے قیام کے لیے انتظامات کا آغاز کر سکیں۔ میولز مینشن جہاں نیول آفیسر اِن چارج کراچی کا دفتر تھا، اسے نیول ہیڈ کوارٹرز بنا دیا گیا،عملی طور پر وہاں ہر چیز کی قلت تھی۔ میز، کرسیاں، الماریاں،دفتری سامان اور اسٹیشنری بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ عارضی انتظامات کے طور پر لکڑی کے بڑے ڈبوں کو میز اور چھوٹے ڈبوں کو سٹول کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ایچ ایم آئی ایس دلاور کے باہر خیمے لگائے گئے جن میں لکڑی کے تختوں اور اینٹوں سے میزیں بنائی گئیں ٹائپ رائٹر نہ ہونے کے برابر تھے۔ دفتری کام کا آغاز مقامی مارکیٹ سے خرید ی گئی پینسلوں اور کاغذ سے کیا جانے لگا۔ ان عوامل سے تقسیم کے وقت ہونے والی حقیقی کیفیت اور پاک بحریہ کے ارتقائی مراحل کی صورت حال کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن اپنی اہلیہ کے ہمراہ 13 اگست 1947ء کو کراچی پہنچے تا کہ حکومتی اختیارات گورنر جنرل کو منتقل کیے جا سکیں۔14 اگست 1947ء پاکستان بننے کے ساتھ ہی رائل پاکستان نیوی بھی وجود میں آگئی۔صبح آٹھ بجے رئیر ایڈمرل جے ڈبلیو جیفورڈ فلیگ آفیسر کمانڈنگ رائل پاکستان نیوی کا علامتی جھنڈا ایچ ایم پی ایس ”گوداوری ”پر لہرا دیا گیا۔ ایڈمرل کا پہلا پیغام سگنل کے ذریعے رائل پاکستان نیوی کے تمام جہازوں اور ساحلی اداروں میں موجود آفیسرز اور سیلرز تک پہنچایا گیا۔آزادی کی تقریبات میں سرِ فہرست تقریب قائد اعظم کی خدمت میں پہلا اعزازی گارڈ پیش کرنا تھا جس کی سعادت رائل پاکستان نیوی کو حاصل ہوئی۔دولتِ مشترکہ کی دوسری دیگر بحری افواج کی طرح پاکستان بحریہ کے ساتھ بھی رائل کا لفظ پاکستان کو وراثت میں ملا جو 1956ء میں جمہوریہ ہونے کے اعلان تک برقرا رہا۔ ہیڈ کوارٹرز نے پہلی فرصت میں ایک میٹنگ کے دوران اپنے مختصر بحری اثاثوں کا جائزہ لیا۔ رائل پاکستان نیوی کے پاس سولہ مختلف اقسام کے بحری اثاثے، تین تربیتی مراکز بشمول گنری اور ریڈار سکول، تقریباً دو سو آفیسرز اور تین ہزار کا عملہ شامل تھے۔حالات کٹھن اور مسائل بے انتہا تھے۔ جہازوں کی مرمت کے انتظام کی عدم دستیابی،ملک کے دونوں حصوں میں مواصلاتی روابط نہ ہونا اور تمام شعبوں میں آفیسرز کی شدید قلت ان شدید مشکلات میں سے چند ایک تھیں جن سے پاک بحریہ ابتدائی ایام میں برسرِ پیکار رہی۔ ایشیا میں نوآبادیاتی تسلط اور اثرورسوخ میں کمی اور چھوٹے ملکوں کے وجود میں آنے کے بعد بھارت نے خطے کو زیر اثر کرنے اور اپنا تسلط جمانے کے لیے سخت کوششیں شروع کر دیں۔کشمیر پر بھارت کا مؤقف دونوں ملکوں کے درمیان تلخی کی بڑی وجہ بنا۔ وہ کشمیر میں الحاق کے متعلق رائے شماری کرانے کے وعدے سے روگردانی کرناچاہتا تھا۔بیانات اور عملی اقدامات سے کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے کی کوششیں ڈھکی چھپی نہیں رہی تھیں۔ مارچ 1965ء کے بعد رن آف کچھ کے علاقے میں بڑے پیمانے پر بھارتی مشقیں جاری تھیں۔پس منظر میں جھلکتے بھارتی عزائم کا ادراک کرتے ہوئے پاک بحریہ کے تمام دستیاب جہازوں کو ہنگامی بنیادوں پر تیارکر کے رن آف کچھ کے علاقے میں تعینات کر دیا گیا۔ یہ 1965ء کی جنگ کی ابتدا کا زمانہ تھا۔1965ء تک پاک بحریہ ایک ایسی قوت بن چکی تھی جو بحری حدود کے دفاع اور اہم سمندری راستوں کے تحفظ کی ذمہ داری نبھانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔آبدوز غازی کو بھارتی بحریہ کے بڑے جہازوں پر حملے کے خصوصی احکامات دے کر بمبئی کے گردونواح میں تعینات کر دیا گیا۔ باقی جہازوں کو کراچی سے 100 میل کے دائرے میں گشت کے لیے تعینات کیا گیا تا کہ تمام قوت کو یکجا رکھ کر دفاع اورحملے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ غازی کی ہندوستانی پانیوں میں موجودگی کی وجہ سے بھارتی بحریہ اپنی عددی برتری کے باوجود بندرگاہوں میں محصور ہو کر رہ گئی۔اس صورتِ حال کی وجہ سے پاک بحریہ کو یہ موقع ملا کہ وہ دوارکا پر ایک مؤثر حملہ کر سکے۔یہاں پر نصب ریڈار اسٹیشن پاکستان کی ساحلی تنصیبات پر بھارتی فضائی حملوں میں بھرپور معاونت کر رہا تھا۔یہ دشمن کا ایک اہم ریڈار اسٹیشن تھا جس کی موجودگی میں پاکستان کی ساحلی تنصیبات کی حفاظت،تجارتی سرگرمیوں اور بحری جنگی مہمات کو جاری رکھنا ممکن نہ تھا۔ جنگ کے دوران دشمن کے اہم ریڈار اسٹیشن کی تباہی پاک بحریہ کی جنگی تاریخ کا ایک فقیدالمثال کارنامہ ہے جس نے دشمن کی جنگی چالیں ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا، پاک بحریہ کی جنگی تاریخ میں اس عمل کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔1965ء کی جنگ پاکستان کی تاریخ کا وہ باب ہے جس نے نہ صرف ملک کی عسکری تاریخ پر گہرے نقوش ثبت کیے بلکہ جنگ کے نتیجے میں قومی شعور، دفاعی ترجیحات اور بحری حکمتِ عملی کے ارتقا کو بھی ایک نئی جہت عطا کی۔ جنگ کے بعدیہ واضح ہو گیا کہ ملکی سلامتی صرف زمینی سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ سمندر، بندرگاہوں، بحری راستوں اور ساحلی تنصیبات کا دفاع بھی قومی سلامتی کا بنیادی جزو ہے۔ جنگ کے نتائج حوصلہ افزا تھے۔ایک نوزائیدہ بحری قوت نے اپنے سے کئی گنا بڑی بحری قوت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر رکھ دیا تھا۔1965ء کی جنگ کے بعد پاک بحریہ نے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ جنگی سازوسامان کے حصول کے لیے کاوشیں جاری رکھیں۔ بحری بیڑے میں جدید ترین آبدوزوں،فضائی و بحری جہازوں کی شمولیت،الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کا حصول اور زیرِ آب قوت میں بے پناہ اضافہ ایک مضبوط بحریہ کی عکاس علامات ہیں۔ہر دور میں پاک بحریہ کی قیادت نے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ فیصلے کیے اور جدید جہازوں کے حصول سے پاک بحریہ کی حربی قوت کو دوام بخشا۔ آخری چند دہائیوں میں بحری بیڑے میں شامل ہونے والے اثاثوں کے نتیجے میں پاک بحریہ میں مسلسل جدت آتی چلی گئی۔پاک بحریہ کئی دہائیوں سے خطے میں ایک فعال بحری قوت کے طور پر اُبھر کر سامنے آئی ہے۔ بحری تحفظ اور خطے کے پانیوں میں امن کے فروغ کے لیے انسدادِ بحری قزاقی و دہشت گردی، ٹاسک فورسز کے قیام اور ریجنل میری ٹائم سکیورٹی پٹرول جیسے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ اکیسویں صدی کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ پاک بحریہ آج اس مقام پر کھڑی ہے جہاں اسے بارہا عالمی بحری قوتوں کی قیادت کرنے کے مواقع میسر آئے ہیں۔ عالمی بحری مشق امن کا تواتر سے انعقاد عالمی امن اور باہمی تعاون کی علامت ہے، جس میں کم و بیش پوری دنیا کی بحری قوتیں سبز ہلالی پرچم تلے کسی نہ کسی حوالے سے اپنی نمائندگی یقینی بناتی ہیں۔وزارتِ بحری امور کی سرپرستی میں انٹرنیشنل میری ٹائم ایگزیبیشن اینڈ کانفرنس (PIMEC) کا اہتمام اور بحری صنعت سے وابستہ سازوسامان کی نمائش جیسی تقریبات بھی پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہیں۔انڈو پیسیفک کے سیاسی و جغرافیائی منظرنامے میں پاک بحریہ کا کردار سراہے جانے کے قابل ہے۔ معرکہ حق کے دوران پاک بحریہ کے خاموش اور مؤثر کردار کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔پاک بحریہ نے دشمن بحریہ کی تمام جنگی چالوں کو غیرفعال بناتے ہوئے اسے کسی بھی قسم کی جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔آج پاک بحریہ خطے میں ایک مضبوط بحری قوت کے طور پر اپنا اثرورسوخ رکھتی ہے اور یقینی مزاحمت کی علامت کے طور پر بحرِ ہند میں موجود ہے۔ پاک بحریہ ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے نئے امکانات کو ممکن بنا رہی ہے، جو پاکستان کی بقا، سالمیت اور ساکھ برقرار رکھنے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں