کسی سرکاری افسر کی پہچان عموماً اس کے عہدے، اختیار اور انتظامی فیصلوں سے ہوتی ہے مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی شناخت ان کے عہدے سے کہیں آگے نکل جاتی ہے وہ سرکاری منصب کو محض اختیار نہیں بلکہ خدمت کا وسیلہ سمجھتے ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ علم، ادب اور تہذیب کی دنیا میں بھی اپنا چراغ روشن رکھتے ہیں۔شفقت اللہ مشتاق کا سفر محض ایک بیوروکریٹ کا سفر نہیں یہ انتظامی ذمہ داری، عوامی خدمت، ادبی ذوق اور تخلیقی وابستگی کے امتزاج کی ایک قابل ذکر مثال ہے ان کی زندگی کے مختلف ادوار اس بات کے گواہ ہیں کہ انہوں نے جس منصب پر بھی ذمہ داری سنبھالی اسے محض دفتری منصب کے طور پر نہیں بلکہ عوام کے مسائل کے حل اور ریاستی ذمہ داریوں کی تکمیل کے ایک موقع کے طور پر دیکھا۔شفقت اللہ مشتاق کی شخصیت اور کامیابیوں میں ان کے والدِ محترم مشتاق احمد خان کا بہت کردار ہے ان کے والد نے نہ صرف اپنے بیٹے کی تربیت نہایت توجہ اور اصول پسندی سے کی بلکہ ان کی تعلیم و شخصیت سازی پر بھی خصوصی توجہ دی انہوں نے شفقت اللہ مشتاق کو اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائی اور ان کی شخصیت میں علم، اعتماد، نظم و ضبط اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کیا یہی مضبوط تربیت آگے چل کر ان کی عملی زندگی کی بنیاد بنی تعلیمی دور ہی سے شفقت اللہ مشتاق ایک باصلاحیت اور پراعتماد طالب علم کے طور پر نمایاں رہے وہ اچھے مقرر تھے اور مباحثوں میں بھرپور حصہ لیتے تھے الفاظ کو موثر انداز میں بیان کرنے، دلیل کے ساتھ بات رکھنے اور سامعین کو متاثر کرنے کی صلاحیت شاید اسی زمانے میں ان کی شخصیت کا حصہ بن چکی تھی بعد ازاں یہی صلاحیتیں ان کی انتظامی اور ادبی زندگی میں بھی ان کے لیے ایک مضبوط سرمایہ ثابت ہوئیں ان کے والد کا ایک خواب تھا کہ ان کا بیٹا ایک دن ڈپٹی کمشنر بنے یہ خواب محض ایک عہدے کی خواہش نہیں بلکہ اپنے بیٹے کو ایک باوقار، ذمہ دار اور عوامی خدمت کے منصب پر دیکھنے کی ایک والدانہ آرزو تھی شفقت اللہ مشتاق نے محنت، صلاحیت اور مستقل مزاجی کے ذریعے نہ صرف اپنے والد کا یہ خواب پورا کیا بلکہ ڈپٹی کمشنر کے منصب پر خدمات انجام دے کر اس خواہش کو حقیقت میں بدل دیا اپنے والد کے خواب کی تکمیل ان کی زندگی کے ان لمحات میں سے ہے جن پر انہیں بجا طور پر فخر محسوس ہوتا ہے شفقت اللہ مشتاق کی شخصیت کی تشکیل میں ان کے بزرگوں کا کردار بھی خاص اہمیت رکھتا ہے ان کے نانا بابا حاجی پٹھانہ نمبردار اور دادا بابا حاجی دارا اپنی بصیرت، دوراندیشی اور اجتماعی مزاج کے حوالے سے خاندان میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے وہ ایسے بزرگ تھے جنہوں نے اپنی پوری فیملی کو محبت، خلوص اور باہمی احترام کے ساتھ جوڑ کر رکھا خاندان کو ساتھ لے کر چلنا، رشتوں کی قدر کرنا، لوگوں کی بات سننا، اور مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا یہ وہ اوصاف ہیں جو انہیں اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملے شاید یہی وجہ ہے کہ عملی زندگی میں بھی شفقت اللہ مشتاق نے خاندان کو جوڑ کر رکھنے اور ہر فرد کا خیال رکھنے کی روایت کو آگے بڑھایا جس طرح ان کے بزرگوں نے خاندان کو ایک مضبوط اکائی بنائے رکھاان کی شخصیت کی فکری و روحانی تربیت میں ان کے ماموں حاجی محمد رمضان کا اثر بھی قابل ذکر ہے حاجی محمد رمضان تصوف پر گہرا یقین رکھتے تھے اور اسی فکر کے مطابق عبادت اور زندگی بسر کرتے تھے ان کی زندگی میں سادگی، روحانیت، عبادت اور اللہ سے تعلق کو بنیادی اہمیت حاصل تھی ان سے انہیں یہ احساس ملا کہ انسان کی اصل عظمت اپنے کردار، اپنے رب سے تعلق، عاجزی اور دوسروں کے لیے خیر خواہی میں بھی ہے۔خانیوال، فیصل آباد، سرگودھا، ساہیوال، لاہور، راجن پور اور بہاولنگر جیسے اضلاع میں انتظامی ذمہ داریاں نبھانے والے افسر کے سامنے پاکستان کے عام شہری کی زندگی کے کئی رنگ آتے ہیں ترقی کے مسائل، انتظامی مشکلات، قانون و انصاف کے تقاضے اور ریاست سے عوام کی وابستہ توقعات یہی تجربات کسی لکھنے والے کے لیے مشاہدے کا ایک وسیع میدان بھی بن جاتے ہیں ڈپٹی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دینا ہو، ایڈیشنل کمشنر اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کی ذمہ داریاں ہوں یا سیکرٹری بورڈ آف ریونیو کے اہم منصب پر فرائض کی انجام دہی شفقت اللہ مشتاق نے انتظامی نظام کے مختلف عہدوں پر کام کیا ان عہدوں کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ افسر کو عوام، حکومت، اداروں اور مختلف طبقات کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہنا پڑتا ہے یہی تجربہ کسی افسر کی انتظامی بصیرت کو بھی نکھارتا ہے اور معاشرے کو قریب سے سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔شفقت اللہ مشتاق کی ادب اور شاعری سے ان کی گہری وابستگی بھی ان کی شخصیت کو نمایاں کرتی ہے دفتری امور کی مصروفیات اور روزمرہ ریاستی ذمہ داریاں اکثر انسان کے اندر موجود تخلیقی کام کو پس منظر میں دھکیل دیتی ہیں مگر شفقت اللہ مشتاق نے اپنے اندر کے ادیب اور شاعر کو زندہ رکھا انہوں نے ادب کو اپنی سرکاری زندگی سے الگ کوئی غیر متعلق سرگرمی نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانی احساس، سماجی شعور اور تہذیبی روایت سے جڑے رہنے کا ذریعہ بنایا یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں ایک دلچسپ توازن دکھائی دیتا ہے ایک طرف وہ ریاستی نظم و نسق کے افسر ہیں اور دوسری طرف الفاظ، احساسات اور انسانی کیفیات کی دنیا کے مسافر۔ ایک طرف ان کے سامنے انتظامی امور اور حکومتی ذمہ داریاں ہیں دوسری طرف شعر و ادب کی وہ دنیا ہے جہاں انسان اپنے باطن، معاشرے اور زمانے سے مکالمہ کرتا ہے شفقت اللہ مشتاق کی ادبی زندگی صرف شاعری کے ذوق تک محدود نہیں بلکہ ان کی تخلیقی کاوشیں باقاعدہ کتابی صورت میں بھی ہیں۔ انہوں نے اردو میں کلامِ شفقت کے نام سے اپنی شاعری کو کتابی شکل دی جبکہ پنجابی زبان میں جاگ اور بھلن ہار کے نام سے دو کتب مرتب کیں ان کتابوں کے ذریعے انہوں نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں اپنے احساسات، مشاہدات اور انسانی و معاشرتی تجربات کو شعری اظہار دیا اردو اور پنجابی دونوں زبانوں سے ان کی وابستگی اس بات کی عکاس ہے کہ ان کا ادبی ذوق اپنی زبان، ثقافت اور تہذیبی جڑوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے ان کی ادبی سرگرمیوں کا ایک اور اہم پہلو ان کی کالم نگاری ہے شفقت اللہ مشتاق معروف اردو اخبارات میں باقاعدگی سے کالم بھی لکھتے ہیں ان کے کالم محض واقعات کا بیان نہیں بلکہ معاشرے، انسان، ریاست، اقدار اور زندگی کے مختلف پہلوں پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ آج جب سرکاری ملازمت میں کامیابی کو عموماً عہدے اور اختیار کے پیمانے سے ناپا جاتا ہے ایسے میں کسی افسر کا ادبی اور تخلیقی سفر اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ سرکاری منصب انسان کی مکمل شخصیت نہیں ہوتا۔ ایک افسر کے اندر بھی ایک حساس انسان، ایک شاعر اور ایک صاحب فکر شخصیت موجود ہو سکتی ہے-ان کی ادبی و شعری خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ کے لیے نامزدگی یقینا ایک اہم اعزاز اور حوصلہ افزائی ہے یہ نامزدگی صرف ایک فرد کے لیے اعزاز نہیں بلکہ اس تصور کی بھی پذیرائی ہے کہ سرکاری خدمت اور علمی و ادبی خدمت ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ ایک ہی شخصیت میں بیک وقت پروان چڑھ سکتی ہیں تاہم کسی بھی اعزاز کی اصل اہمیت اس وقت بڑھتی ہے جب اس کے پیچھے ایک طویل اور مسلسل سفر موجود ہو شفقت اللہ مشتاق کے معاملے میں یہ سفر سرکاری عہدوں کی ایک فہرست تک محدود نہیں اس میں والدین کی خدمت، خاندان کی ذمہ داری، عوامی مسائل میں لوگوں کا ساتھ، انتظامی تجربہ، ادبی وابستگی، شاعری اور معاشرے کے ساتھ ایک فکری رشتہ شامل ہے ہمارے معاشرے کو ایسے ہی کرداروں کی ضرورت ہے جو اختیار کے ساتھ احساس، منصب کے ساتھ انصاف اور انتظامی ذمہ داری کے ساتھ علمی و ادبی شعور کو بھی زندہ رکھیں کیونکہ ریاستیں صرف قوانین اور دفتروں سے نہیں چلتیں انہیں ایسے لوگ بھی درکار ہوتے ہیں جو معاشرے کو سمجھ سکیں لوگوں کے دکھ کو محسوس کر سکیں اور اپنے تجربات کو فکر اور ادب میں منتقل کر سکیں شفقت اللہ مشتاق کی شخصیت اسی امتزاج کی ایک مثال ہے وہ بیوروکریسی کے افسر بھی ہیں عوامی خدمت کے منتظم بھی، اپنے والد کے خواب کو حقیقت میں بدلنے والے بیٹے بھی، اور سب کا خیال رکھنے والے ذمہ دار فرد بھی، مشکل میں گھرے لوگوں کے کام آنے والے انسان بھی، اور ادب و شاعری سے وابستہ ایک تخلیقی شخصیت بھی۔ پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ کے لیے ان کی نامزدگی اس سفر کی ایک اہم منزل ہے۔




