فیول ریلیف سکیم میں بیس سال پرانے موٹرسائیکلوں اور رکشوں کو بھی شامل کرنا ایسے افراد کے لیے اہم سہولت ہے جو محدود آمدن کے باوجود روزگار اور روزمرہ ضروریات کے لیے ان سواریوں پر انحصار کرتے ہیں عام شہریوں کو پٹرولیم مصنوعات کی مد میں ریلیف فراہم کرنا خوش آئند اقدام ہے اس سے ان کی مشکلات میں کسی حد تک کمی ہو گی جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ہر شے کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں، ایسی صورت میں عام آدمی کی ضروریات زندگی کا خیال رکھنا حکومت کی طرف سے اچھا طرز عمل ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوام کے سفری اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے ریلیف کا دائرہ وسیع ہونا عام آدمی کے لیے مالی بوجھ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فیول ریلیف سکیم میں عوام کو مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے سکیم میں 20 سال پرانی موٹرسائیکلوں’ رکشوں اور چنگ چی رکشوں کو فوری شامل کرنے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔ یکم جنوری 2006ء کے بعد رجسٹرڈ تمام موٹرسائیکلیں’ رکشے اور چنگ چی سکیم میں رجسٹریشن کیلئے اہل ہونگے اور وزیراعظم پٹرول ریلیف سکیم سے مستفید ہو سکیں گے۔ وزارت آئی ٹی کے مطابق وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کے تحت اب تک 10لاکھ سے زائد رجسٹریشنز مکمل ہو چکی ہیں۔ 24 گھنٹے کنٹرول روم سے ملک بھر میں سکیم کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ جاری ہے۔ وزارت آئی ٹی کا کہنا ہے کہ سکیم کے تحت اب تک 8لاکھ سے زائد ٹوکنز جنریٹ کیے گئے۔ ٹوکنز ریڈیمیشن کی فہرست میں پنجاب اور اسلام آباد سب سے آگے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم نے پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اسے معاشی استحکام کی جانب سے تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنا معاشی ٹیم کی دن رات محنت اور درست اقدامات کا ثبوت ہے۔ ترسیلات زر اور سروسز کی برآمدات میں نمایاں بہتری’ کرنٹ اکائونٹ کی بہتر صورتحال اور مالیاتی نظم وضبط نے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ میں اضافہ ملکی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کو مضبوط بنائے گا اور عالمی معاشی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی ہماری استعداد بھی کئی گنا بڑھائے گی۔ مستحکم معاشی پوزیشن ملک میں بیرونی اعتماد’ سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی ترقی کے نئے دروازے کھولے گی۔ حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات کا اصل مقصد عوام کو مہنگائی کے اثرات سے ممکنہ حد تک تحفظ فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ تاہم ضروری ہے کہ سکیم کے طریقہ کار کو آسان’ شفاف اور قابل رسائی رکھا جائے تاکہ پرانے موٹرسائیکل اور رکشے رکھنے والے حقیقی مستحقین بھی بلارکاوٹ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ حکومت کو مہنگائی میں کمی اور توانائی کے شعبے میں مستقل اصلاحات پر بھی توجہ دینا ہو گی۔ فیول ریلیف سکیم کا فائدہ اگر شفاف انداز میں مستحق افراد تک پہنچے تو اس سے سفری اخراجات میں کمی لائی جا سکتی ہے، عوامی فلاح کے ایسے اقدامات کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ان پر مؤثر نگرانی ہو اور ان کے ثمرات براہ راست عام شہری تک پہنچیں لہٰذا فیول سکیم کے ثمرات اصل حق داروں تک پہنچانے کیلئے عملی طور پر اقدامات کو بھی مؤثر بنانا ہو گا تاکہ اس سکیم سے اصل حق دار مستفید ہو سکے۔




