صفدرآباد(نامہ نگار)لاہور فیصل آباد سیکشن پر شیخوپورہ کے قریب ریلوے ٹریک بند ہونے سے علاقہ بھر کے لوگ مشکلات ،مصیبتوں ، پریشانیوں کا شکار ہو کر رہ گئے،عوام سے سفر کی سہولت بھی چھین لی گئی،لوگ بسوں اور ویگنوں میںدھکے کھانے پر مجبور ۔ لاہور ،فیصل آباد ، سرگودھا،جڑانوالہ،ملتان اور کراچی جانے کیلئے کوئی بھی ٹرین اس لئے دستیاب نہیںکہ شیخوپورہ اور شاہدرہ کے درمیان سیلاب کی وجہ سے ریلوے پل کو شدید نقصان پہنچا اور پل بہہ گیا جس سے ریلوے نے فوری طور پر لاہور سے فیصل آباد ،ملتان ،سرگودھا،جڑانوالہ اور کراچی جانیوالی ٹرینیں بند کر دیں اور کوئی متبادل آپشن بھی نہ دیا ۔کئی ماہ ہو چکے ایک پل ریلوے والے نہیں بنا سکے ان سے کیا توقعات کی جائیں ۔حد ہو گئی ہے ایک پل نہ بن سکا کئی مہینے گزر گئے۔عوام خوار ہو گئے ،سفر کرنا مشکل بن گیا اور پوچھنے والا کوئی نہیں ،ایک شہری نے بتایا کہ کمال کی بات ہے حلقے کے موجودہ ایم این اے اور ایم پی اے صاحبان عوام کو تنہا چھوڑ گئے،ان کے دکھو ںکے مداوے کیلئے تسلی دینے والا بھی کوئی نہیں ،سابق اراکین اسمبلی نے بھی پرانی روایات برقرار رکھیں۔ شہر ی نے کہ کہ کہاں ہیں وفاقی وزیر ریلوے جو عوام کوسہو لیا ت کی گردان سناتے تھے۔وزیر اعظم صاحب کو شائد علم نہیں کہ پل ٹوٹا ہوا ہے ورنہ وہ موقع پر ضرورپہنچ جاتے اور عوام کی تکلیف کو دور کرنے کے احکامات جاری فرماتے ۔وفاقی وزیر ایسا کریں کہ ٹرینیں فیصل آباد سے شیخوپورہ تک چلا دیں یہ بہت بڑی سہولت ہو گی۔




