لاہور ہائیکورٹ کا سیلز اور انکم ٹیکس کے متعلق اہم فیصلہ

لاہور (بیوروچیف) لاہور ہائیکورٹ نے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس سے متعلق اہم فیصلے میں مقررہ قانونی مدت گزرنے کے بعد دائر ٹیکس ریفرنسز کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر سرکاری محکموں کی تاخیر معاف کرنے کی متفرق درخواستیں مسترد کر دیں۔ جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس منور اقبال دوگل پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ان لینڈ ریونیو کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ مقررہ قانونی مدت ختم ہونے کے بعد دفتری اعتراضات دور کر دینے سے درخواست قانونی طور پر قابلِ سماعت نہیں ہو جاتی۔ دفتری اعتراضات دور کرنے کے لیے دی گئی مہلت کو ریفرنس دائر کرنیکی قانونی مدت میں توسیع تصور نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کور ٹ کے سابقہ عدالتی نظائر کی روشنی میں نامکمل درخواستو ں کو قانونی طور پر دائر شدہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ قانونی مدت ختم ہونے کے بعد درخواست گزاروں کی جانب سے دفتری اعتراضات دور کرنے کا عمل ان کی تاخیر کو قانونی جواز فراہم نہیں کرتا۔فیصلے میں واضح کیا گیا کہ قانونِ میعاد (لمیٹیشن) کے اطلاق کے معاملے میں سرکاری ادارے اور عام شہری برابر ہیں۔ ایف بی آر یا کسی دوسرے سرکاری محکمے کو محض سرکاری ادارہ ہونے کی بنیاد پر تاخیر کی معافی میں خصوصی یا امتیازی رعایت نہیں دی جا سکتی۔لاہور ہائیکورٹ نے سال 2023 میں دائر کیے گئے ٹیکس ریفرنسز کے معاملے میں تقریبا تین سال بعد تاخیر معاف کرنے کی درخواستیں دائر کرنے کو غیر معقول قرار دیا۔ عدالت نے درخواست گزاروں کی جانب سے دفتری طریقہ کار اور محکموں میں رائج روایات کو تاخیر کا جواز بنانے کی کوشش بھی مسترد کر دی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار اپنی غفلت اور نامکمل درخواستیں دائر کرنے کی ذمہ داری ہائیکورٹ کے دفتر پر عائد نہیں کر سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں