اسلام آباد (بیوروچیف) الیکشن کمیشن آج معطل شدہ مخصوص نشستوں کی بحالی اور ان کا تعین کردے گا،حکومت کسی آئینی ترمیم لانے کا ارادہ نہیں رکھتی ،وفاقی حکومت پر پیپلز پارٹی کا دباو کم ہو جا ئے گا ، پنجاب میں مسلم لیگ-ن اور قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کی اکثریت دو تہائی بن جائے گی ،حکومتی ذرائع کا کہنا ہے پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد مزید مستحکم ہو گا مولانا فضل الرحمن کی جمعیت کے ساتھ باوقار تعلقات پر کوئی حرف نہیں آئے گا، الیکشن کمیشن آج آئینی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں مخصوص نشستوں کا تعین کرکے انکی رکنیت بحال کریگا تو قابل لحاظ سیاسی ہلچل رونما ہو گی ،سیاسی میدان میں تحریک انصاف کی ہزیمت میں نمایاں اضافہ ہوگا ،خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کا سنگھا سن ڈول سکتا ہے،بحال ہونے والے ارکان کو معطلی کے ساڑھے گیارہ ماہ کا مشاہرہ اور بھتہ بھاڑا ملے گا یا نہیں، عدالت کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا۔تفصیلات کے مطابق ملک کی سب سے بڑی آئینی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن آج قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کا حتمی تعین کردے گا جس کے نتیجے میں پنجاب اسمبلی میں حکمران پاکستان مسلم لیگ نون کی اکثریت دوتہائی میں تبدیل ہوجائے گی اور قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کی اکثریت بھی دو تہائی کا درجہ حاصل کرلے گی اس طرح سیاسی میدان میں تحریک انصاف کی ہزیمت میں قابل لحاظ اضافہ ہو جائے گا اسے خیبر پختونخوا میں اپنی عددی اکثریت برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ لائق اعتماد سیاسی مبصرین کی رائے سے اخذ کیا ہے کہ وفاقی سیاست میں جہاں پیپلزپارٹی نے پاکستان مسلم لیگ نون کو اکثر اوقات دبائو میں مبتلا رکھا ہے اب اسے قدرے پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔




