مریخ پر انسانی قدموں جیسے پر اسرار نشانات دریافت

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی خلائی ادارے ناسا کے کیوریسیٹی روور نے مریخ پر تقریبا 14سالہ سفر کے دوران ایک ایسی عجیب دریافت کی ہے جس نے سائنس دانوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ادارے کے مطابق روور نے مانٹ شارپ کی جانب بڑھتے ہوئے مریخ کی سطح پر چوڑے اور ہلکے گڑھے نما نشانات کی تصاویر لی ہیں جو بظاہر انسانی قدموں کے نشانات سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔ناسا کے مطابق یہ نشانات اس نوعیت کے ہیں جو کیوریوسٹی نے اپنے طویل مشن کے دوران پہلے نہیں دیکھے لیکن سائنس دان واضح کر چکے ہیں کہ یہ حقیقی قدموں کے نشان نہیں ہیں اور مریخ پر کسی مخلوق کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ماہرین کے مطابق مریخ کی سطح پر چھوٹے گڑھے اور نشیبی حصے بننا غیر معمولی بات نہیں۔ عموما یہ اس وقت بنتے ہیں جب چٹان میں موجود نسبتا سخت کنکریاں یا معدنی گٹھلیاں طویل عرصے میں گھِس کر ختم ہو جاتی ہیں جس کے بعد ان کی جگہ خالی جگہ باقی رہ جاتی ہے۔اس کے باوجود ان نئے نشانات کی غیر معمولی شکل نے انہیں کیوریوسٹی کے مریخ پر طویل سفر کی دلچسپ اور پراسرار دریافتوں میں شامل کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں