معاشی استحکام کیلئے حکومتی اصلاحات کے ثمرات ملنے لگے

اسلام آباد(بیورو چیف) وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ حالیہ معاشی اصلاحات کے نتیجے میں قومی خزانے پر قرضوں کا دبا ئونسبتاً کم ہوا ہے، مالی نظم و ضبط بہتر ہوا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،ان اقدامات سے قرضوں کی واپسی کے خطرات میں کمی اور مالی استحکام کو تقویت ملی ہے۔اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مرکزی حکومتی قرضوں کی شرح نمو گزشتہ 15برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا مرکزی حکومتی قرض 81.9 کھرب روپے ہے جبکہ 97سے 100 کھرب روپے کے جن اعداد و شمار کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان میں نجی شعبے کے واجبات بھی شامل ہوتے ہیں۔خرم شہزاد نے بتایا کہ پاکستان کا قرض برائے جی ڈی پی تناسب، جو پہلے تقریباً 76فیصد تھا، کم ہو کر 68 فیصد رہ گیا ہے،2023 میں حکومتی قرض بڑھنے کی رفتار 23 فیصد تھی، جو اب کم ہو کر 5 فیصد رہ گئی ہے اور یہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی کی کم ترین شرح ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی قرضوں کی اوسط مدت 2.8 سال سے بڑھ کر 3.8 سال ہو گئی ہے جس سے قرضوں کی واپسی کا خطرہ کم ہوا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 4.7 کھرب روپے کے مہنگے قرضے قبل از وقت ختم یا واپس کیے گئے جس کے باعث مالی سال 2026 میں سودی اخراجات 8.89 کھرب روپے سے کم ہو کر 6.94 کھرب روپے رہ گئے اور تقریبا 2 کھرب روپے کی بچت ہوئی۔مشیر وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 2023 میں وفاقی آمدن کا 64 فیصد حصہ سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتا تھا، جو اب کم ہو کر تقریباً 40فیصد رہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث درآمدی بل کی ادائیگی کی گنجائش 2 ہفتوں سے بڑھ کر تقریباً 3ماہ تک پہنچ گئی ہے۔ قرضوں کی واپسی میں مثبت پیش رفت اور ذخائر میں اضافہ دیرپا حکومتی پالیسیوں اور مثر معاشی اقدامات کا نتیجہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں