منڈی صادق گنج(نامہ نگار)عطائیت کا مکروہ دھندہ کرنے والے بے لگام شہری کی زندگیاں دائو پر۔محکمہ صحت کے افسران نے عطائیت سمیت جعلی غیر معیاری ایکسپائری اور نشہ آور ادویات فروخت کرنے والے میڈیکل سٹوروں کو کھلی چھٹی دے کر لوگوں کو مرنے پر مجبور کر دیا محکمہ صحت کے افسران اور ڈرگ انسپکٹر کرپشن میں سب سے بازی لے گئے نام نہاد یونینز کے ذریعے لمبی دیہاڑیاں لگانے میں مصروف تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کے افسران اور ڈرگ انسپکٹر کی مجرمانہ غفلت اور مبینہ کرپشن سے منڈی صادق گنج منچن آباد میکلوڈ گنج اور گردونواح کے دیہاتوں میں سینکڑوں میڈیکل سٹوروں پر جعلی غیر معیاری اور نشہ آور ادویات کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا مریض جعلی غیر معیاری اور ایکسپائری ادویات کے استعمال سے صحت یاب ہونے کی بجائے موت کے منہ میں جانے لگے جبکہ کھلے عام نشہ آور ادویات کے استعمال سے نوجوان نسل تباہ و برباد ہونے لگی تحصیل بھرمیں عطائیت کینسرکی طرح پھیل چکی ہے شہروں کے گلی محلوں اور بازاروں میں محکمہ صحت کے افسران اور ڈرگ انسپکٹر کی آشیرباد سے عطائی جعلی ڈاکٹرز لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے میں مصروف ہیں اگر خدانخواستہ کوئی شہری عطائی جعلی ڈاکٹر کے ہتھے چڑھ کر کسی حادثے کا شکار ہوتا ہے تو وہ محکمہ صحت کے افسران سے شکایت کرنے پر محکمہ صحت کے افسران عطائی ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے اپنے ٹاٹوں کے ذریعے بھاری رقم وصول کرکے چپ سادھ لیتے ہیں ذرائع سے معلوم ہواہے کہ ڈرگ انسپکٹر اور محکمہ صحت کے افسران نام نہاد یونینز کے ذریعے عطائیوں اور میڈیکل سٹوروں سے ماہانہ لاکھوں کا بھتہ وصول کر رہے ہیں شہری حلقوں نے ڈپٹی کمشنر بہاول نگر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سخت ایکشن لیتے ہوئے عطائیت سمیت جعلی غیر معیاری ایکسپائری اور نشہ اور ادویات فروخت کرنے والے انسانیت کے دشمن میڈیکل سٹوروں کے مالکان کے خلاف سخت کارروائی کرکے مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنائیں۔




