سوشل میڈیا سے دسترخوان تک

آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا محض تفریح اور رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی، سوچ اور غذائی عادات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل اپنی خوراک کے انتخاب میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور وائرل غذائی رجحانا ت سے متاثر نظر آتی ہے۔ کبھی ڈیٹاکس ڈرنکس کو صحت کا راز بتایا جاتا ہے تو کبھی کسی مخصوص غذا کو مکمل طور پر ترک کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ایسے میں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ کیا نوجوان مستند غذائی معلومات حاصل کر رہے ہیں یا محض سوشل میڈیا پر مقبول ہونیوالے رجحانات کی پیروی کر رہے ہیں؟ یہ مسئلہ نہ صرف انفرادی صحت بلکہ معاشرے میں غذا ئی شعور کے فروغ کے حوالے سے بھی توجہ کا متقاضی ہے۔ آج کل خوراک، صحت اور فٹنس سے متعلق ویڈیوز بہت مقبول ہیں۔ نوجوان ان ویڈیوز سے متاثر ہو کر اپنی روزمرہ کی غذائی عادات تبدیل کرنے لگتے ہیں، لیکن ضروری نہیںکہ ہر آن لائن مشورہ سائنسی اعتبار سے درست ہو۔پاکستان میں بھی نوجوان سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی غذائوں اور کھانے پینے کے رجحانات سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایک طرف فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور تیار شدہ غذائوں کی تشہیر کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف مہنگے ڈائٹ پلان اور مخصوص غذائوں کو صحت مند زندگی کے لیے ضروری ظاہر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہمارے روایتی کھانے مثال دال، چنا، سبزیاں، دہی، انڈے، موسمی پھل اور روٹی بھی ایک متوازن غذا کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔
کیا ہر وائرل ڈائٹ واقعی صحت بخش ہوتی ہے؟
موجودہ دور میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز نوجوانوں کے فیصلوں پر نمایاں اثر رکھتے ہیں ۔ انکی جانب سے تجویز کردہ کھانے، مشروبات او ر ڈائٹ پلان بہت جلد مقبول ہو جاتے ہیں۔
بعض اوقات کسی غذائی مصنوعات کی تشہیر محض کاروباری مقاصد کے لیے کی جاتی ہے، لیکن نوجوان اسے مستند طبی یا غذائی مشورہ سمجھ کر اپنانے لگتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان کسی بھی غذائی مشورے کو اپنانے سے پہلے اس کی سائنسی حیثیت اور معلومات فراہم کرنے والے شخص کی قابلیت کو جانچیں۔ ہر انسان دوسرے انسان سے مختلف ہے اور اس کی غذائی ضروریات بھی مختلف ہوتی ہیں اس لئے کسی کے بھی کیے گئے صرف ایک تجربے کو ہم اپنے آپ پر لاگو نہیں کر سکتے کیونکہ یہ لازمی نہیں ہے کہ وہ ہم پر بھی مثبت اثرات مرتب کرے گا بغیر کسی تحقیق اور نا تجربہ کار لوگوں کے ہاتھوں خود کی صحت ساتھ کھیلنا ہر گز درست قدم نہیں ہے ۔ تندرستی خدا کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت ہے اس کی حفاظت کرنا ہم پر لازم ہے ۔
خوبصورت تصاویر کے پیچھے چھپی حقیقت:
سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی صحت بخش غذائوں کی تصاویر اکثر نہایت دلکش ہوتی ہیں۔ مہنگے پھل، مخصوص مشروبات اور مختلف غذائی مصنوعات کو صحت مند زندگی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اس رجحان سے نوجوانوں میں یہ غلط تصور پیدا ہو سکتا ہے کہ صحت مند غذا حاصل کرنے کیلئے مہنگی اشیا خریدنا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ متوازن غذا کے لیے مہنگی یا غیر ملکی غذائی مصنوعات کا استعمال لازمی نہیں۔ مقامی اور موسمی غذائیں بھی جسم کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا کے مثبت پہلو
سوشل میڈیا صرف منفی اثرات ہی نہیں رکھتا بلکہ اسے غذائی آگاہی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً صحت بخش کھانوں کی آسان ترکیبیں سیکھنا۔
متوازن غذا کی اہمیت کو سمجھنا۔ماہری غذائیت سے معلومات حاصل کرنا۔مختلف وٹامنز اور معدنیات کی اہمیت جاننا۔صحت مند غذائی عادات کو فروغ دینا۔لیکن آج کل کے نوجوانوں کا رجحان ان مثبت اثرات کی بجائے منفی اثرات کی طرف زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ: یقین نہ کریں۔ 1سوشل میڈیا پر موجود ہر غذائی مشورے پر فوراً 2معلومات فراہم کرنے والے شخص کی پیشہ ورانہ قابلیت دیکھیں۔
اِن غذائیت سے رہنمائی حاصل کریں۔ 3مستند ماہر۔4بغیر ضرورت سخت غذائی پابندیاں اختیار نہ کریں۔ 5کسی بھی وائرل ڈائٹ کو اپنانے سے پہلے اپنی صحت اور غذائی ضروریات کو مدنظر رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں