مکہ دفاعی معاہدہ’ خطے کے لئے نیا باب قرار (اداریہ)

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات’ باہمی اعتماد’ استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجح البقمی سے ملاقات میں اس معاہدے کو باہمی تعلقات میں نئے باب کا آغاز قرار دینا دونوں ممالک کے درمیان گہرے اعتماد اور تعاون کے عزم کا اظہار ہے۔ اس ملاقات میں اقتصادی تعاون’ سرمایہ کاری برآمدات اور عوامی روابط کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو مستقبل کے لیے امید افزا امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا ہمارے دلوں میں منفرد مقام’ مکہ دفاعی معاہدہ مشترکہ سلامتی کے تحفظ کا ضامن اور خطے کے لیے نیا باب ہے۔ سعودی عرب تقریباً 9.8 ارب ڈالر کے ساتھ پاکستان کو ترسیلات زر بھیجنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوشش اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے قابل مذمت ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مملکت سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور حملوں میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔ ملاقات میں لائیوسٹاک’ بیف’ پولٹری’ پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات بڑھانے کے لیے پنجاب کے وسائل اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے پاک سعودی تعلقات کے فروغ اور استحکام کے لیے سابق سعودی سفیر کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور سعودی شہریوں کو پنجاب میں شاندار سیاحتی مراکز کے دوروں کی دعوت دی۔ خادم حرمین شریفین اور ولی عہد کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ پنجاب سے لائیوسٹاک’ بیف’ پولٹری’ آم’ کینو’ آلو اور شریمپ ایکسپورٹ میں 500 بلین روپے سے زیادہ کا ہدف مقرر پر اتفاق کیا گیا، سعودی عرب ہر پاکستانی کے دل میں منفرد اور محترم مقام رکھتا ہے۔ سعودی قیادت اور مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کے درمیان دہائیوں پر محیط باہمی تعلق اعتماد کی روشن مثال ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوشش سمیت سعودی شہروں اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے قابل مذمت ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کے حق دفاع کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ پاکستان اور پنجاب کے عوام مملکت سعودی عرب کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ مشترکہ اقتصادی طاقت مشترکہ سلامتی کی یقینی ضامن ہے۔ پنجاب مملکت سعودی عرب کو ایک قابل اعتماد’ حلال سے تصدیق شدہ خوراک فراہم کرنے والا صوبہ بن سکتا ہے۔ سعودی سفیر نے دونوں ممالک اور ان کے عوام کے درمیان گہرے’ برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو سراہا اور تمام شعبوں میں ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مثبت پیش رفت کو ٹھوس اقدامات کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ تجارتی اہداف کا تعین’ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول’ برآمدات کے معیار میں بہتری اور ادارہ جاتی رابطوں کا تسلسل اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مکہ معاہدہ اسی امید کے ساتھ ایک نئے باب کا آغاز ہے کہ باہمی احترام’ مضبوط شراکت داری اور ذمہ دارانہ تعاون کے ذریعے خطے میں سلامتی’ خوشحالی اور پائیدار امن کے امکانات کو مزید تقویت ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں