فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) تھانہ منصور آباد کے علاقہ میں 19سالہ نوجوان محمد احدکو اغوا کے بعد قتل کرنے کا معاملہ، نئے تعینات ہونیوالے ایس ایچ او تھانہ منصور آباد سب انسپکٹر معظم گجر نے چارج سنبھالتے ہی 2 گھنٹوں کے دوران نوجوان کے اغوا اور اندھے قتل کی واردات میں ملوث 2مرکزی ملزمان کو ٹریس کرکے گرفتار کر لیا ملزمان میں ایک حجام اور دوسرا اسکا ساتھی شامل ہے ملزمان عمر اور بلال نے مقتول کو اکبر چوک لیجا کر شوارما کھلایا جس کے بعد اسکو حجام نے گھر لا کر مقتول سے پیسوں کی ڈیمانڈ کی جس کے انکار ایک ملزم نے مقتول کے بازو پکڑے اور حجام نے اسکے سر پر قینچی کے وار کیئے اور گلہ میں کپڑے سے پھندہ دے کر اسکو موت کے گھاٹ اتار دیا جس کے بعد ملزمان نے مقتول کی نعش کو رسیوں سے باندھ کر بیڈ شیٹ میں لپیٹا اور منیاں والا کے علاقہ میں پھینک کر خون آلود کمبل کو نہر میں پھینک دیا پولیس نے ملزمان سے آلہ قتل برآمد کر لیا ملزمان کو ٹریس کرنے میں ایس ایچ او منصور آباد سب انسپکٹر معظم گجر اور انکی ٹیم جبکہ ایک مرکزی ملزم کی گرفتاری میں 203 رب کی ایک مقامی سیاسی شخصیت نے اہم کردار ادا کیا۔دریں ثنائ۔فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) تھانہ منصور آباد کے علاقہ سے 3روز قبل اغوا کے بعد 19سالہ نوجوان کے قتل کا معاملہ’ مقتول کے ورثا کا شیخوپورہ روڈ بلاک کرکے پولیس کیخلاف احتجاج جاری،پولیس کو ملزمان کی اغوا کرکے لیجاتے سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کی موبائل ڈیٹا سے لوکیشن اور رابطوں کی تصدیق کے باوجود پولیس نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمان نے ہمارے بیٹے کو قتل کر دیا ایس ایچ او نے 3دن ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھا اور آج ہم اپنے بیٹے کی نعش کے پاس کھڑے تھے اور ایس ایچ او ہمیں کال کرکے بول رہا تھا آپ تھانہ آجائیں آپ کے لیئے ایک گڈ نیوز ہے دوسری جانب افسران بھی پولیس کی اس غیر ذمہ داری اور مجرمانہ غفلت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، ورثاء مقتول کے موبائل کی لوکیشن شیخوپورہ اور تھانہ ساہیانوالہ کے علاقہ میں ظاہر ہوتی رہی مگر اناڑی افسران اس ٹیکنیکل معلومات کو سمجھ سکے اور نہ ہی اس پر کام کرسکے اور ایک قیمتی جان درندگی کی بھینٹ چڑھ گئی۔




