اسلام آباد (بیوروچیف) نئے بجٹ کا اطلاق ہوگیا’ فنانس ایکٹ کے تحت مختلف ٹیکس اقدامات لاگو ہو گئے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے بجٹ 2025-26کی سمری پر دستخط کیے۔ جس کے بعد فنانس بل ایکٹ بن گیا۔ صدر زرداری کے دستخط کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا۔یاد رہے کہ اسمبلی نے 26 جون کو فنانس بل کی شق وار منظوری دی تھی جبکہ اپوزیشن کی کٹوتی کی تمام تحاریک مسترد کردی گئیں۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کا ٹیکس ہدف 14,131 ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5,147ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 8,206ارب روپے ملیں گے۔ سود کی ادائیگی کے لیے 8,207ارب اور دفاع کے لیے 2,550ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔نئے فنانس بل میں 106اداروں کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جبکہ ان اداروں نے بطور ٹرسٹ اور فائونڈیشن رجسٹریشن کروا کے ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کیا۔فنانس بل کے مطابق سابق صدور یا ان کی بیواوں کی پنشنز پر بھی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے، ایف بی آر فاونڈیشن، واپڈا، پی اے آرسی اور وزیراعظم کے خصوصی فنڈز بھی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔ایس ای سی پی، نجکاری کمیشن، فوجی فائونڈیشن، کارانداز پاکستان، الشفا ٹرسٹ، الشفا آئی ٹرسٹ اور پاکستان بار کونسل کو بھی ٹیکس استثنیٰ حاصل ہوگا جبکہ غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ، لمز، اخوت فائونڈیشن ، الخدمت فائونڈیشن اور بزنس مین ہاسپٹل ٹرسٹ بھی لسٹ میں شامل ہیں۔دعوت اسلامی ٹرسٹ، اسلام آباد سمیت چاروں صوبائی بار کونسلز بھی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ شوکت خانم میموریل ٹرسٹ، انڈس اسپتال، زابسٹ یونیورسٹی اور کامسیٹس، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے ادارے اور آرمی ویلفیئر ٹرسٹ بھی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیے گئے۔ سپریم کورٹ ڈیمز فنڈ اور وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ بھی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔سولر پینل پر مجوزہ 18 فیصد کے بجائے سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد مقرر کی گئی۔ کاربن لیوی عائد کرنے اور کسٹمز ایکٹ میں 14حکومتی ترامیم بھی منظور کرلی گئیں۔انکم ٹیکس کے حوالے سے وزیر خزانہ کی پیش کردہ ترامیم منظور اور اپوزیشن کی ترامیم مسترد کردی گئیں۔ترامیم کے مطابق سالانہ 6لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والے افراد انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار پائیں گے جبکہ 6سے 12لاکھ تک سالانہ تنخواہ پر 1 فیصد ٹیکس، 12سے 22لاکھ تک تنخواہ پر 6,000روپے فکسڈ ٹیکس اور 11فیصد انکم ٹیکس عائد ہوگا۔فنانس بل کے مطابق 22سے 32لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر 1لاکھ 16ہزار فکسڈ اور 22لاکھ سے زائد رقم پر 23 فیصد ٹیکس جبکہ 32سے 41لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر 3لاکھ 46ہزار فکسڈ اور 30فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔41 لاکھ روپے سے زائد سالانہ تنخواہ پر 6 لاکھ 16 ہزار فکسڈ ٹیکس اور 35 فیصد انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد پنشن پر 5 فیصد انکم ٹیکس متعارف کرایا گیا ہے۔




