ٹرمپ ٹیرف سے سٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی،2روز میں70کھرب ڈالر ڈوب گئے

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) بلومبرگ کے مطابق، دنیا کے 500امیر ترین افرادکو ٹرمپ کے ٹیرف کے اعلان کے بعد مجموعی طور پر 208ارب ڈالرکا نقصان ہوا ،ایلون مسک 11ارب ،جیف بیزوس 15.9 ارب اور مارک زکر برگ 17.9ارب ڈالر سے محروم،ٹیسلا کے حصص 5.5 فیصد ،ایمیزون کے 9 فیصد اور میٹا شیئرز میں بھی تقریبا 28 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ڈونلڈ ٹرمپ کے محصولات کے نفاذ کے دوسرے روز ایلون مسک کو 11ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ٹیسلا کے سی ای او اور امریکی صدر کے دوست ان امریکی ارب پتیوں میں شامل تھے جو ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔درحقیقت، بلومبرگ کے ویلتھ انڈیکس میں سے نصف سے زیادہ افراد کی دولت کو نقصان پہنچا، دنیا کے 500امیر ترین افرادکو ٹرمپ کے ٹیرف کے اعلان کے بعد مجموعی طور پر 208ارب ڈالرکا نقصان ہوا۔میٹا کیمالک مارک زکربرگ اور ایمیزون کے جیف بیزوس کو بھی بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ بلومبرگ کے مطابق، ٹیرف کے اعلان کے اگلے دن جمعرات کو ایلون مسک کو 11ارب ڈالرکا نقصان ہوا۔مجموعی طور پر، ٹیسلا کے سی ای او کورواں سال اب تک110 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ جمعرات کو ٹیسلا کے حصص بھی 5.5 فیصد گر گئے۔جمعرات کو ایمیزون کے حصص میں 9 فیصد کمی واقع ہوئی، جس سے ٹیک کمپنی کے بانی کی ذاتی دولت میں 15.9 ارب ڈالر کی کمی آئی۔میٹا کے بانی ٹیرف کے اعلان کے بعد اپنی دولت سے 17.9 ارب ڈالر سے محروم ہوچکے ہیں، جو کہ اس کی دولت کا تقریبا 9 فیصد ہے۔ فروری کے وسط سے، میٹا شیئرز میں بھی تقریبا 28 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف نے امریکی اسٹاک مارکیٹوں کا بھٹا بٹھا دیا اور صرف 2 روز میں سرمایہ کاروں کے 60 کھرب ڈالر سے زیادہ ڈوب گئے۔2 روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے درجنوں ممالک پر جوابی تجارتی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، دنیا کا شاید ہی کوئی خطہ ہو جو ٹرمپ کے اس حالیہ ٹیرف سے بچ سکا ہو، یہاں تک کہ انٹارکٹیکا کے قریب وہ غیر آباد جزائر بھی اس ٹیرف کی زد میں آئے جہاں صرف پینگوئنز رہتی ہیں اور جہاں انسان آخری مرتبہ شاید 10 سال قبل گئے تھے۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹیرف کے اعلان کے بعد 2 روز میں سرمایہ کاروں کے اسٹاک مارکیٹ میں لگے60 کھرب ڈالر سے زیادہ ڈوب گئے، یہی نہیں امریکی ٹیرف کے بعد چینی مصنوعات کے یورپی منڈیوں کارخ کرنیکا بھی امکان ہے۔ٹرمپ ٹیرف کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاکس میں5 سال کی بدترین مندی دیکھنے میں آئی، ڈا جونز میں 5 فیصد، ایس اینڈ پی 500 میں 4.6 فیصد اور نیسڈک میں 4.7 فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ لندن اسٹاک ایکسچینج میں فٹسی ہنڈریڈ انڈیکس میں کووڈ وبا کے بعد سے ریکارڈ 5 فیصد،جرمنی کی اسٹاک مارکیٹ میں 4 فیصد اور جاپان میں 2 اعشاریہ 8 فیصد مندی رہی جبکہ تجارتی جنگ کے خدشات بڑھنے سے تیل کی قیمتیں 8 فیصد گر کر 4 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔امریکی سینٹرل بینک کے سربراہ جیروم پاویل نے قیمتوں میں اضافے اور معاشی ترقی کی رفتار میں کمی سے خبردار کیا ہے، صدر ٹرمپ کے اصرار کے باوجود جیروم پاویل نے شرحِ سود میں فی الحال کمی سے انکار کر دیا ہے۔دوسری جانب آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹرکرسٹالینا جارجیوا کا کہنا ہے کہ سست شرحِ نمو کے وقت امریکی ٹیرف عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہے۔مزید برآں برطانوی، آسٹریلوی اور اطالوی وزرائے اعظم نے بھی تجارتی جنگ کو عالمی تجارت کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے ساتھ ہی تینوں وزرائے اعظم نے معاشی استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق بھی کیا ہے۔دریں ثنائ۔واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف نے امریکی اسٹاک مارکیٹوں کا بھٹا بٹھا دیا اور صرف 2روز میں سرمایہ کاروں کے 70کھرب ڈالر سے زیادہ ڈوب گئے۔ 2روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے درجنوں ممالک پر جوابی تجارتی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، دنیا کا شاید ہی کوئی خطہ ہو جو ٹرمپ کے اس حالیہ ٹیرف سے بچ سکا ہو، یہاں تک کہ انٹارکٹیکا کے قریب وہ غیر آباد جزائر بھی اس ٹیرف کی زد میں آئے جہاں صرف پینگوئنز رہتی ہیں اور جہاں انسان آخری مرتبہ شاید 10سال قبل گئے تھے۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹیرف کے اعلان کے بعد 2 روز میں سرمایہ کاروں کے اسٹاک مارکیٹ میں لگے70کھرب ڈالر سے زیادہ ڈوب گئے، یہی نہیں امریکی ٹیرف کے بعد چینی مصنوعات کے یورپی منڈیوں کارخ کرنیکا بھی امکان ہے۔ٹرمپ ٹیرف کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاکس میں5سال کی بدترین مندی دیکھنے میں آئی، ڈا جونز میں 5فیصد، ایس اینڈ پی 500میں 4.6فیصد اور نیسڈک میں 4.7فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ لندن اسٹاک ایکسچینج میں فٹسی ہنڈریڈ انڈیکس میں کووڈ وبا کے بعد سے ریکارڈ 5 فیصد،جرمنی کی اسٹاک مارکیٹ میں 4 فیصد اور جاپان میں 2 اعشاریہ 8 فیصد مندی رہی جبکہ تجارتی جنگ کے خدشات بڑھنے سے تیل کی قیمتیں 8 فیصد گر کر 4 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔امریکی سینٹرل بینک کے سربراہ جیروم پاویل نے قیمتوں میں اضافے اور معاشی ترقی کی رفتار میں کمی سے خبردار کیا ہے، صدر ٹرمپ کے اصرار کے باوجود جیروم پاویل نے شرحِ سود میں فی الحال کمی سے انکار کر دیا ہے۔دوسری جانب آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹرکرسٹالینا جارجیوا کا کہنا ہے کہ سست شرحِ نمو کے وقت امریکی ٹیرف عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہے۔مزید برآں برطانوی، آسٹریلوی اور اطالوی وزرائے اعظم نے بھی تجارتی جنگ کو عالمی تجارت کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے ساتھ ہی تینوں وزرائے اعظم نے معاشی استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق بھی کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں