اسلام آباد (بیوروچیف) فنانس ایکٹ 2025 کے تحت ٹیکس فراڈ کی تعریف میں نمایاں توسیع نے کاروباری طبقے میں شدید تشویش اور اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ قانونی ماہرین اور صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ ترمیم شدہ قانون میں سیلز ٹیکس فراڈ کی تعریف کو اتنا وسیع کر دیا گیا ہے کہ معمول کی ٹیکس سرگرمیاں بھی اب اس کی زد میں آ سکتی ہیں۔رپورٹکے مطابق سپریم کورٹ کے وکیل اور ٹیکس امور کے ماہر ارشد شہزاد نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نئے قانون کے تحت ٹیکس افسران کو غیر معمولی اختیارات دے دیے گئے ہیں، جن کے غلط استعمال کا خدشہ کاروباری طبقے میں عدم تحفظ پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف گرفتاری کے اختیار کا نہیں بلکہ ٹیکس فراڈ کی تعریف میں اتنی توسیع کر دی گئی ہے کہ عام ٹیکس دہندگان بھی اب اس کے تحت گرفتار ہو سکتے ہیں۔ترمیم شدہ سیکشن 2(37) کے مطابق ٹیکس فراڈ میں وہ تمام اعمال شامل ہیں جو جان بوجھ کر، بدنیتی سے یا دھوکہ دہی کے ذریعے کیے جائیں اور جن کا مقصد حکومت کو ٹیکس کے نقصان سے دوچار کرنا ہو۔ ان میں شامل ہیں:ارشد شہزاد نے نشاندہی کی کہ ان دفعات میں شامل کئی نکات ایسے ہیں جنہیں ایف بی آر پہلے ہی معمول کے مطابق استعمال کرتا ہے، جیسے کہ اگر کسی ٹیکس دہندہ کا سپلائر بعد میں غیرفعال قرار دے دیا جائے تو اس کی پرانی انوائس کو بھی مشکوک قرار دے کر گرفتاری ممکن ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے قانون کے تحت جرم کا ارتکاب جان بوجھ کر سمجھا جائے گا جب تک کہ ٹیکس دہندہ خود اس کے برعکس ثابت نہ کرے، جو عدالتی اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہی اصول ماضی میں نیب قانون میں بھی شامل تھے، جنہیں بعد میں خود سیاستدانوں نے ختم کروایا تھا۔ اب انہی جیسے اختیارات ٹیکس حکام کو دیے جا رہے ہیں۔ارشد شہزاد نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے یہ ترامیم سپریم کورٹ کے تاج انٹرنیشنل کیس کے فیصلے کو غیر مثر بنانے کے لیے متعارف کروائی ہیں۔ ان کے بقول، ایسا لگتا ہے کہ ٹیکس ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے اصل ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ارشد شہزاد نے زور دیا کہ ایسے سخت قوانین سے پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہو گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس قانون پر نظر ثانی کی جائے اور ایسا اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) تیار کیا جائے جو اصل کاروباری طبقے کو اس قانون کے ممکنہ غلط استعمال سے محفوظ رکھے۔قانونی ماہرین اور کاروباری طبقے کا کہنا ہے کہ اگر اس قانون میں نرمی نہ کی گئی تو یہ اقدام کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور حکومت کے لیے آمدنی بڑھانے کی بجائے اعتماد کھونے کا باعث بنے گا۔




