تاریخ کے جھروکوں اور ان جھروکوں کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے۔ ان میں جھانک کر دیکھنا ضروری ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان جھروکوں میں جھانکنا منع ہو اور ایسا کرنے سے جھٹکا، بلکہ وولٹ 420 کا جھٹکا لگنے کا خطرہ ہو؟ انسان ساخت کے اعتبار سے بڑا ہی مختلف ہے۔ یہ تھوڑا کسی سے ڈرتا ہے! ویسے بھی اسے صرف اپنے رب سے ڈرنا چاہیے اور باقی ساری مخلوق کو اس انسان نے ڈرانا ہے۔ واقعتا ایسا نہیں ہے۔ انسان انسان میں فرق ہوتا ہے۔ کچھ انسان تو مذکورہ صفت سے متصف ہوتے ہیں، جبکہ بعض میرے جیسے بھی ہیں جن کے ہاں ان ہونا سا خوف پایا جاتا ہے، حالانکہ ان ہونی ہو کر رہتی ہے اور دنیائے رنگ و بو کا سارا نظام امکانات کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے، لہذا ڈر کس بات کا ہے؟انسان کو بہرحال چوکنا اور محتاط رہنا پڑتا ہے تاکہ تدبیر کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے اور آگے بڑھتا جائے۔ دنیا ویسے بھی ہوشیار لوگوں کی ہے۔ سست اور نکمے لوگ تو پھر ادھر ادھر دیکھ کر کبھی ہنستے ہیں اور کبھی روتے ہیں، یا پھر لمبی تان کر سو جاتے ہیں۔ سونے والے محض خواب دیکھتے ہیں، تاہم ذی ہوش لوگ پہلے خواب دیکھتے ہیں اور پھر انہیں حقیقت کا روپ دینے کے لیے کمر کس لیتے ہیں۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب ان کے خواب شرمند تعبیر ہو جاتے ہیں۔راقم الحروف تاریخ کا طالب علم ہے اور تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کا مجھے بھی چسکا ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں بھی خاصی ورائٹی ہے۔ کچھ کتابیں تو جہاں پناہ نے اپنی خصوصی نگرانی میں قلم بند کروائی ہیں۔ ویسے ایسی کتابیں اکثر و بیشتر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈبوں میں بند ہو جاتی ہیں اور تشنگانِ علم انہیں دور سے دیکھ کر ہی کہتے ہیں: قالوا سلاما۔ ہاں، تاریخ کے ایسے مسودے بھی موجود ہیں جو ہر دور کے بارے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیتے ہیں۔ یوں اصل حقائق کھل کر سامنے آتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو پیغام دینے کے ساتھ ساتھ دعوتِ فکر بھی دیتے ہیں۔ یہ کتابیں قارئین کی آنکھوں پر لگے غفلت، سست روی، جہالت اور اس نوعیت کے کئی دوسرے جالے صاف کر دیتی ہیں۔ یوں قاری صاحبِ بصارت ہو جاتا ہے اور اگر اس کے مطالعے میں تسلسل ہو تو صاحبِ بصیرت ہونے کا بھی امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ہم نے تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کی پوری کوشش کی اور کافی حد تک حقائق سے بھی آگاہ ہوئے۔ تاہم نظری ضرورت کی بھی ایک تاریخ ہے۔ اس تاریخ کے دہرائے جانے کا امکان تو موجود ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نظری ضرورت کی اس تاریخ کا دروازہ مستقل طور پر بند کر سکتے ہیں، یا پھر ناممکنات کی بھی کوئی اہمیت ہے اور بجز خاموشی کے ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں؟ مختصر مگر جامع بات یہ ہے کہ ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔گزشتہ دنوں معروف کالم نگار اور دانشور مجیب الرحمن شامی نے یونیورسٹی آف لاہور میں ایک لیکچر دیا۔ اس کا موضوع تھا: پاکستان: خیال سے کمال تک۔ موضوع اپنی اہمیت کے اعتبار سے منفرد اور عصرِ حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے۔ نوجوان نسل، جو سر تا پا جنون ہی جنون سے بھری ہوئی ہے، اس کی تربیت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ بصورتِ دیگر جنون کا اگلا مرحلہ مجنوں ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے گفتگو کا آغاز محمد بن قاسم سے کیا اور یہ وضاحت کی کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی باقاعدہ حکومت 1206 ء میں قائم ہوئی اور قطب الدین ایبک برصغیر پاک و ہند کا پہلا مسلمان حکمران بنا۔ اس کی تاج پوشی بھی لاہور میں ہوئی۔ لاہور ہی میں وہ پولو کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر کر وفات پا گئے اور یہیں مدفون ہوئے۔ گویا مسلمانوں کے پہلے باقاعدہ حکمران کا مسکن لاہور تھا۔بہرحال، مسلمانوں کے ایک طویل دور کا آغاز ہوا۔ غلاماں سے شاہاں کا زمانہ، سلطنتِ دہلی کا دور اور پھر مغلوں کا عہد۔ ہر سو مسلمانوں ہی کی حکمرانی تھی۔ ویسے بھی اس پورے دور میں یا بادشاہ تھا یا رعایا۔ عوام کا وہ تصور، جس کی بنیاد پر جمہوریت معرضِ وجود میں آئی، اس وقت سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ شاید اسی لیے آج ہمارے پاس اس حوالے سے مصدقہ شواہد موجود نہیں کہ اس دور میں ہندوستان میں کتنے مسلمان اور کتنے ہندو آباد تھے۔ ظلِ الہی کا حکم چلتا تھا اور رعایا اس کے اشاروں کی پابند تھی۔ طاقت کی بنیاد پر اقتدار حاصل کیا جاتا تھا۔ ویسے بھی ہندؤں کے ہاں یہ تصور پایا جاتا تھا کہ بادشاہ خدا کا اوتار ہے۔ وسطی ایشیا سے مسلمان حملہ آور آتے تھے، ہندوستان کو تہ و بالا کرتے اور واپس لوٹ جاتے تھے۔مذکورہ سطور میں باقاعدہ حکومت کا ذکر کر دیا گیا ہے۔ شمس الدین التتمس کی بصیرت اور مسلمانوں کے ایک نئے دور کا آغاز، غیاث الدین بلبن کی بلڈ اینڈ آئرن پالیسی اور علاؤالدین خلجی کی معاشی پالیسیوں سے آگے بڑھتی ہوئی داستان مغلوں تک پہنچتی ہے۔ پھر مغلوں کا عروج و زوال، انگریزوں کی آمد اور آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کی حالتِ زار۔ اس حالت پر تو فطرت بھی زار و قطار روتی ہوگی۔ بات بادشاہ کے وظیفے تک آ پہنچی اور شعرائے کرام کے قصائد کا کلچر فروغ پانے لگا۔ ایک غیر عقلی حکمران کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے رہے اور یوں 1857 ء میں مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔مسلمان مجرم ٹھہرے، انگریز مطلق العنان حکمران بن گئے اور ہندؤں کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل گیامزید یہ کہ انگریز حکومت نے باقاعدہ مردم شماری بھی کروا دی۔ ہندو اٹھارہ کروڑ اور مسلمان پانچ کروڑ تھے۔ مسلمانوں پر ایک نئی آفت آن پڑی۔ اپنے ہی ملک میں اقلیت اور محکوم قوم کی حیثیت اختیار کر گئے۔ ہندؤ اکثریت کے مقابلے میں مسلمان اپنی سیاسی و سماجی حیثیت کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہو گئے۔ ہم سب سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ایسے میں سرسید احمد خان کی پختہ سوچ اور مسلمان قوم کی تنظیمِ نو کا خیال سامنے آیا۔ حضرت علامہ محمد اقبال کی پرجوش شاعری اور ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا تصور ابھرا۔ اس کے بعد قائداعظم محمد علی جناح کی جہدِ مسلسل نے اس تصور کو عملی جدوجہد میں بدل دیا۔ یوں اللہ تعالی کے فضل و کرم سے بات خیال سے کمال تک جا پہنچی اور 14 اگست 1947 ء کو پاکستان معرضِ وجود میں آ گیا۔یہ ایک طویل داستان ہے جو 712 سے شروع ہوتی ہے اور 1947 ء میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم فضا میں لہراتا ہے۔ فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھتی ہے۔ مذکورہ داستان آج کے دور کا ایک اہم موضوع ہے اور یونیورسٹی آف لاہور نے اس موضوع پر مجیب الرحمن شامی جیسی سنجیدہ اور عصرِ حاضر کی قدآور شخصیت کو مدعو کر کے ایک اہم فریضہ انجام دیا۔آج کی نوجوان نسل کے سامنے پاکستان: خیال سے کمال تک کی پوری کہانی، بلکہ اس کے تمام خدوخال واضح کرنا ایک انتہائی اہم ضرورت ہے۔ یہ بات بھی ان پر واضح ہونی چاہیے کہ ہمیں مستقبل میں کس طرح آگے بڑھنا ہے، ہمارا آئندہ لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے اور ہماری موجودہ صورتِ حال کیا ہے۔ ہمارے باہمی اختلافات، غیروں کی ریشہ دوانیاں اور بین الاقوامی صورتِ حال، یہ سب ایسے عوامل ہیں جنہیں پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ہمیں یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم ایک زندہ اور پائندہ قوم ہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ ہمارے کردار اور عمل سے ہونا چاہیے۔ بقولِ علامہ اقبال:عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی ہماری منزل جنت ہے اور پاکستان جنت نظیر۔ یہی ہے خلاصہ اس داستان کا، جس کا عنوان ہے: پاکستان: خیال سے کمال تک۔




